اردو کلاس میں تدریس نماز — Page 42
تدريس نماز 42۔۔۔۔۔۔وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ کہہ کر پھر دل تھوڑا سا کتا ہے کہ لائے کیا ہیں ہم۔پیش تو کر رہے ہیں مگر ہے کچھ بھی نہیں ، خالی برتن پیش کر رہے ہیں۔اس کی مرضی ہے کہ وہ قبول کرے۔وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ پر غور کر کے ایک اور مضمون اس سے نکل سکتا ہے کہ روزانہ کچھ نہ کچھ بدنی قربانیاں پیش کیا کریں۔روزانہ خدا کے حضور کچھ نہ کچھ ، کچھ طیب پیش کیا کریں۔اگر آپ یہ کر سکیں تو کم ازکم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ تھوڑا تو ہے مگر یہ کچھ ہے جو ہم نے تیرے لائق سمجھا ، وہ پیش کر دیا۔تو نماز ہر جگہ قدم روکتی ہے، انسان کو سوچنے کا کہتی ہے کہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھو اور ایک نماز میں ساری باتیں ہو ہی نہیں سکتیں۔اس لئے روزانہ پانچ وقت نماز۔صبح نماز، شام نماز لیکن آپ بور نہیں ہوتے۔کیوں کہ آپ کی سوچیں ہر نماز میں مختلف ہوتی ہیں۔ساری باتیں ایک ہی نماز میں تو نہیں سوچ سکتے لیکن آپ کی سوچیں کبھی ایک بات کو لائیں گی کبھی دوسری بات لائیں گی۔عمر گزر جائے گی مگر نماز ختم نہیں ہوگی۔تو التَّحِيَّات کے بعد ہم اگلی باتیں کیا کرتے ہیں؟ یہ ساری پیاری پیاری باتیں ہمیں کس نے سکھائی؟ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کوتو تحفہ پیش کر دیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہم کیا لائے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وہ دعا ہے جو اللہ کی طرف سے ان کو عطا ہوئی ہے۔اور ہماری طرف سے ایک تحفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوگا۔اس لئے تحفہ پیش کرتے وقت خدا تعالیٰ کو پہلے غائب بتایا۔التَّحِيَّاتِ لِلهِ ، پھر حاضر کی طرف مضمون چلا گیا۔پھر اپنی طرف مضمون آ گیا۔تین ہی طریق ہیں جو ہر زبان میں ملتے ہیں۔(۱) کسی کو غائب میں ذکر کریں۔(۲) یا مخاطب میں کریں۔(۳) یا اپنے متعلق بات کریں۔یہ تینوں باتیں التَّحِيَّاتُ میں موجود ہیں۔پہلی بار التَّحِيَّاتِ لِلهِ ہے یعنی سب تھے اللہ ہی کے لئے ہیں۔دوسری پھر یاد آنا چاہئے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس اللہ سے ہمارا تعلق بڑھایا اس لئے یہاں رہی نہیں فرمایا۔کیوں کہ یہ تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ ہے جس نے ہم سے تعارف کروایا۔اس لئے ہم کہتے ہیں السّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ۔اے نبی تجھ پر سلام ، تو نے کتنی بڑی چیز دی۔اور یہ کہنے کے بعد آخر میں پھر اپنے پر بھی سلام بھیجا السَّلَامُ عَلَيْنَا۔