اردو کلاس میں تدریس نماز

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 18 of 46

اردو کلاس میں تدریس نماز — Page 18

تدريس نماز 18۔۔۔۔۔۔آیت جو ہے یہی سارے قرآن پر حاوی ہے۔مگر صرف یہی نہیں اور بھی آیتیں ہیں جو اس طرح مضمون کو آگے لے جاتی ہیں۔جب ہم الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ) کہتے ہیں اس کے بعد کیا کہتے ہیں؟ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الرحمن کا کیا مطلب ہے؟ بن مانگے دینے والا۔مگر اس سے پہلے بسم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِيم ) میں الرَّحْمنِ آچکا ہے۔اس میں بن مانگے دینے والا ، ساری کائنات کو بخشنے والا کے معنی ہیں۔اگر وہ بن مانگے نہ دیتا تو رَبِّ الْعَلَمِينَ ﴾ کی بات نہ شروع ہوتی۔رَبِّ الْعَلَمِینَ ﴾ بتا رہا ہے کہ عالمین پیدا ہو چکی تھیں۔اور بسم اللهِ الرَّحْمَنِ رحیم میں جو رحمان ہے اس سے ساری کائنات پیدا ہوئی، بن مانگے۔تو قرآن کریم میں الْحَمْدُ کے بعد پھر الرَّحْمنِ کا دوبارہ کیوں ذکر آیا؟ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ﴾ سورۃ فاتحہ سے پہلے اور باقی سورتوں سے پہلے پڑھتے ہیں۔الرحمن خداوہ ہے۔الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ - رحمان خدا نے ساری کائنات پیدا کی۔قرآن بھی اسی نے سکھایا اور انسان بھی اسی نے پیدا کیا۔الإنسان تو بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ میں جو تخلیق تھی وہ بن گئی تو پھر رب العلمین کی بات شروع ہوئی۔دوبارہ کیوں الر حمن کہہ دیا ؟ قرآن کریم میں رحمان کی طرف دو باتیں منسوب ہوئی ہیں۔(۱) انسان کو پیدا کیا۔(۲) اس نے قرآن سکھایا۔تواب قرآن کی بات شروع ہو رہی ہے۔سورہ فاتحہ نے الْحَمْدُ لِلَّهِ ﴾ جب کہہ دیا تو پھر الرحمن کہہ کر بتایا کہ جو روحانی تعلق ہے سارا روحانی عالم، یہ بھی اللہ ہی نے پیدا کیا ہے، اور الرحمن سے متعلق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مضمون کو بہت جگہ بہت ہی اعلیٰ عرفان کے ساتھ بیان کیا ہے۔فرمایا: ”کون خدا سے قرآن مانگنے گیا تھا؟ کوئی بھی نہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی خود قرآن مانگنے نہیں گئے۔عَلَّمَ الْقُرْآنَ۔یہ رحمان خدا نے قرآن عطا کیا ہے بن مانگے۔دنیا میں کسی انسان نے خدا سے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ ہمیں قرآن دے۔قرآن کا تو پتہ ہی کچھ نہیں تھا۔تو