اردو کلاس میں تدریس نماز — Page 11
تدريس نماز 11 نہیں جس کا ذکر قرآن مجید میں موجود نہیں۔ہر چیز کا ذکر ہے، ہر چیز کی صفت بیان فرمائی ، اعلیٰ درجہ کا انسان بننے کے لئے جو کچھ چاہئے تھا قرآن میں جمع ہو گیا۔تو دوبارہ مضمون شروع ہو گیا۔الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ﴾ پھر الرَّحْمَنِ الرَّحِيم۔جب دوبارہ غور کرو قر آن پر، تو رحمن کا ایک اور جلوہ نظر آتا ہے، حد سے زیادہ رحم انسان پر کیا کہ بن مانگے اس نے ان کو قرآن دے دیا۔یہ مضمون حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے کہ رسول اللہ نے قرآن نہیں مانگا تھا، آپ کو تو پتہ بھی نہیں تھا کہ شریعت کیا ہوتی ہے اور کیا بوجھ پڑتے ہیں۔جب غار میں وحی نازل ہوئی تھی تو فرشتہ کہتا تھا کہ پڑھ اور آپ کہتے تھے کہ مجھے پڑھنا نہیں آتا۔کوئی خواہش نہیں تھی۔رحمن خدا نے دو احسان ہم پر کئے۔ایک یہ کہ بن مانگے قرآن دے دیا اور دوسرے اس کو دے دیا جس سے اچھا کوئی انسان نہیں تھا۔۔۔۔الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ ﴾ کے معنی۔رحیم کے معنی یہ بھی ہیں کہ بعد میں مجدد آتے ہیں۔رسول اللہ آ کے گزر گئے ، تو رحیم خدا پھر مجدد لے کر آیا۔خدا نے خیال کیا کہ دوبارہ سچا دین مل جائے۔جب لوگ زیادہ بگڑ گئے تو خدا نے مسیح موعود کو بھیجا۔انہوں نے دوبارہ قرآن کی تعلیم شروع کر دی۔یہ معنی الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ کے روحانی معنی بن گئے۔ملک یوم الدین کس کو کہتے ہیں؟ دین کا مطلب ہے کسی کو کسی کے کام کی جزا دینا۔مزدور جب مزدوری کرتا ہے تو اس کا یوم الدین کب آتا ہے؟ جب مالک سے اس کو تنخواہ ملتی ہے۔اس کو دین کہتے ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ جو کچھ تم نے کیا اس کا پھل تمہیں ملے گا۔ملک يَوْمِ الدِّينِ ) کا مطلب ہے کہ ہر چیز کی جزا جب تک خدا نہ چاہے نہیں مل سکتی۔زمیندار بیج لگاتا ہے، سارا سال محنت کرتا ہے۔جب آخر پر فصل کاٹنے کے لئے تیار ہے تو ایسا طوفان آتا ہے کہ فصل کو مٹی میں ملا دیتا ہے۔ایک دانہ بھی اس کو نہیں ملتا۔وہ سمجھتا تھا کہ میں مالک ہوں اس فصل کا اور ملک يَوْمِ الدِّينِ ) کا یہ نشان بھی دکھلاتا ہے۔انسان غفلت میں سمجھتا ہے کہ سب کچھ اس کا ہے۔اس پر ایک سچا واقعہ حضور رحم اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ میں اورخلیفہ امسح الثالث دونوں زمیندار تھے۔شام کا وقت تھا ان کا ٹریکٹر جو فصل کاٹنے کے لئے تیار تھا جو یومِ الدِّینِ کے لئے ایک مشین تھی۔اور میں نے بھی وہی منگوائی تھی۔ہم دونوں کا خیال تھا کہ اس کے ذریعہ ہم فصل کاٹیں گے۔