اردو کلاس میں تدریس نماز — Page 12
تدريس نماز 12۔۔۔۔۔۔گندم اچھی ہوگی میں موٹر پر بیٹھ کر احد نگر (جہاں زمینیں تھیں) کے لئے روانہ ہوا۔موسم بھی اچھا تھا۔خیال تھا کہ مشین ڈالوں گا اور سب کچھ ہمارے ہاتھ آجائے گا۔اتنے میں ایک طوفان اٹھا۔ابھی تھوڑا آگے گیا کہ آندھی کی طرح خوفناک بگولے اٹھے اور پھر برف کے اتنے بڑے بڑے اولے پڑے کہ صرف اولے تھے، بارش تھی ہی نہیں۔(حضور نے فرمایا) کہ برف کے اتنے موٹے ٹکڑے پہلے ساری زندگی نہیں دیکھے تھے۔موٹر کی چھت پر گڑھے پڑ گئے۔جب میں احمد نگر پہنچا ساری فصل تباہ ہوگئی۔سارے علاقہ میں ایک دانہ ہاتھ نہ آیا۔اس کو کہتے ہیں ملک يَوْمِ الدِّينِ۔اور بتاتا ہے کہ آخر وقت تک میں ہی مالک ہوں۔جب دینے کا وقت آئے گا تو میں دیتا رہتا ہوں تم بھول جاتے ہو۔جب چاہے نہیں دوں گا۔وہ رحیمیت لے کر آتا ہے بار بار فضل لاتا ہے۔انسان بھلا دیتا ہے۔یہ جزا سزا اس کے قبضہ میں ہے۔بعض عورتیں 9 ماہ بچہ پالتی ہیں اور آخر میں وہ ختم ہو جاتا ہے۔تو ملک يَوْمِ الدِّينِ ﴾ وہی ہے۔قرآن کریم پر غور کر و۔جب رحمن اور رحیم خدا کی یہ ساری نعمتیں اور رحمتیں انسان کے لئے ہیں تو جزا سزا عمل کی وہی دے گا ، کوئی اور نہیں دے سکتا۔اس کو پتہ ہے کہ کیا جزا دینی ہے۔یہ رحمن اور رحیم اللہ تک پہنچنے کا رستہ ہے۔اور ربوبیت کرتا ہے۔اس کے رستہ سے ہم ربوبیت میں داخل ہو گئے۔پھر رحمانیت آگئی ، پھر رحیمیت آگئی۔ہم رحمن اور رحیم خدا سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔اس نے روحانی اصلاح کے لئے بڑے بڑے پاک بندوں کو بھیجا۔اگر انسان ان سب سے فائدہ اٹھائے تو پھر بھی آخری نتیجہ خدا ہی دے گا، اس دنیا میں بھی اور اُس دنیا میں بھی۔اور مالک کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اس میں عجیب بات یہ ہے کہ خدا کے نیچے اگر کسی کو مالک بنایا گیا ہے تو وہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ربوبیت میں بھی انہوں نے سب سے زیادہ کمال حاصل کیا، رحمانیت اور رحیمیت میں بھی اور مالک آپ کو بنایا گیا کیوں کہ جو انسان کامیاب ہوتا ہے وہ رسول اللہ کے حوالہ سے ہوگا۔اگر ان کے خلاف آتے ہیں تو کامیاب نہیں ہوگا۔گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روحانی فیض کے لئے اس دنیا میں مالک بنادئے گئے ( اور بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے معنی بیان کئے ہیں )۔قرآن کریم نے ملک يَوْمِ الدِّینِ ﴾ کی تعریف بیان کی ہے۔آیت ہے ﴿ لَا تَمُلِكُ