اردو کلاس میں تدریس نماز — Page 10
تدريس نماز 10۔۔۔۔۔۔۔میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے ایک دوسرے سے تفریق کر رہے ہیں۔یہ سب بیان کی باتیں ہیں۔اور دوسرے بیان میں اپنے مقصد کو واضح کرنا ہے۔دل کی بات کو کھل کر پیش کریں تو وہ بیان ہے۔بیان کس کو کہتے ہیں؟ ایک چیز دوسری چیز سے الگ ہو جائے۔ان کا مطلب ہے کھل کر بیان ہو گئی۔فرق نمایاں ہے۔فرق بین ہے۔اس لئے الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ - خَلَقَ الْإِنْسَانَ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ﴾۔یہ بیان جو ہے اس کو بولنے چالنے کی تمیز سکھائی۔اس کو اپنا مقصد بیان کرنا سکھایا۔اس کو اچھے بُرے کی تمیز سکھائی۔اس سب چیز کو بیان کہتے ہیں۔جو چیز دل کی کھل کر بیان کریں اس کو کہتے ہیں قوت بیان یعنی بیان کرنے کی قوت۔(اردو کلاس نمبر ۳۱۳، منعقده ۲۱ /اکتوبر۱۹۹۷ء) (بحواله الفضل انٹر نیشنل ۱۴ / مارچ ۲۰۰۳ صفحه ۱۲ تا۱۳) اب روحانی کائنات کی باتیں شروع ہوں گی۔پہلے مادی کائنات کی باتیں تھیں۔ربوبیت کی دو قسمیں ہیں۔پہلی ربوبیت بچے کوکھانا کھلانے کی تھی۔دوسری جب بڑا ہو تو اٹھنے بیٹھنے کے آداب سکھائے۔جب ہم کہتے ہیں اَلحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ﴾ تو ہم دوسری ربوبیت پر آتے ہیں۔پہلی ربوبیت جانوروں، کیڑوں مکوڑوں کو کھانا کھلانے کی تھی۔اب ربوبیت ترقی کر کے علوم کی ربوبیت ہے۔اور یہ ربوبیت خدا نے سارے جہانوں کے لئے فرمائی ہے۔وہی مذہب میں بھی ترقی کرتے تے اسلام تک پہنچی ہے۔تہذیب و تمدن میں ترقی کرتے کرتے مختلف تہذیبوں سے گزری۔انسان نے جو کچھ بھی سیکھا، جو علوم بھی سیکھے یہ رب العالمین کی تعریف کرنے والی بات ہے۔اور جب ہم یہ کہتے ہیں الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ﴾ تو ہم دوسری ربوبیت پر آگئے۔رب العلمین کا پر غور کریں تو سب سے اچھی تربیت قرآن نے کی۔انسانوں کو انسان بنانے کے لئے جو کچھ چاہئے تھا وہ سب اس میں جمع ہو گیا۔سب سے اچھی تربیت محمد نے کی اور سب سے زیادہ علوم سکھانے والا نبی محمد ہیں۔حمد وہی ہے جو اللہ کی ہو۔اور وہی حمد کے قابل ہے جس کی حمد اللہ نے کی ہو۔اور اللہ کی حمد کہ اس نے سارے جہانوں کی تربیت کر کے ان کو چھوٹی چھوٹی حالتوں سے ترقی کر کے بڑی یونیورسٹی میں ڈال دیا اور سب سے بڑی یونیورسٹی، قرآن کی یونیورسٹی جاری کی اور اس یونیورسٹی میں سارے علوم داخل کر دئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ایک بھی کا ئنات کا علم ایسا