تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 17 of 108

تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین — Page 17

تذكرة الشهادتين ۱۷ اردو ترجمه لا يفهمون۔وكذالك علماؤهم المحققون، | اسی طرح ان کے محقق علماء اپنے گھروں کو خود اپنے يُخربون بيوتهم بأيديهم وكما ہاتھوں سے ویران کر رہے ہیں۔اور جس طرح وہ دخلوا يخرجون، فويل لعيون لا داخل ہوئے تھے نکل رہے ہیں۔بُرا ہو اُن تُبصر و آذان لا تسمع و ویل آنکھوں کا جو دیکھتی نہیں اور اُن کانوں کا جو سنتے للذين يقرءون کتاب اللہ ثم نہیں۔اور بُرا ہو اُن کا جو کتاب اللہ پڑھتے تو ہیں لیکن سمجھتے نہیں۔أينزل عيسى من السماء وقد کیا عیسی آسمان سے اتریں گے جبکہ قرآن نے حبسه القرآن؟ هيهات هيهات انہیں روکا ہوا ہے۔جو تم گمان کرتے ہو وہ عقل لما تزعمون ، إن حبس القرآن سے دور بہت ہی دور ہے۔قرآن کی قید آہنی أشد من حبس الحديد، فویل قید سے زیادہ سخت ہے۔پس ہلاکت ہو اُن | للعمى الذين لا يتدبرون کتاب اندھوں پر جو اللہ کی کتاب پر غور نہیں کرتے اور نہ الله ولا يخشعون، وإن موته خير ہی عاجزی اختیار کرتے ہیں۔کاش وہ جانتے کہ لهم ولدينهم لو كانوا يعلمون (علی) کی موت ان (مسلمانوں) کے اور ان کے قد جاء کم رسول اللہ دین کے لئے بہتر ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلى الله عليه و سلم بعد عیسی عیسی کے بعد ساتویں صدی میں تمہارے پاس ۸۶ في مائة سابعة، وجئتكم في مائة تشريف لائے۔اور میں تمہارے پاس اُس صدی هي ضعفها إن في ذالك لبشری میں آیا ہوں جو اس (سات) کا دوگنا ( یعنی چودھویں لقوم يتفقهون، فاعلموا أن الله صدی) ہے۔یقیناً اس میں غور وفکر کرنے والی قوم کے إذ بعث الحكم الكبير۔أعنى لئے بڑی بشارت ہے۔پس جان لو کہ اللہ نے جب نبینا صلی اللہ علیہ و سلم فی سب سے بڑا حکم ( یعنی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) مائة سابعة بعد عیسی کو عیسی کے بعد ساتویں صدی میں مبعوث فرمایا