تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین — Page 16
تذكرة الشهادتين 17 اردو ترجمه وإني نبي من معنى، وفرد من الأمة میں ایک اعتبار سے نبی اور ایک اعتبار سے امتی ہوں۔بمعنى، وكذالك ورد في أمرى میرے متعلق اسی طرح وارد ہوا ہے۔کیا وہ پڑھتے أفلا يقرء ون؟ ألا يقرء ون فيما نہیں؟ کیا وہ ان ( روایات ) میں جو ان کے پاس ہیں عندهم أنّه منكم وإنه ”نبی ؟ یہ نہیں پڑھتے کہ وہ تم میں سے ہے اور وہ نبی ہے۔کیا أهاتان صفتان توجدان فی عیسی یہ دو صفتیں عیسی میں پائی جاتی ہیں؟ یا قرآن میں یہ أو ذكر تا له في القرآن؟ فأرونا إن دونوں اُس کی نسبت مذکور ہیں؟ اگر تم سچ کہتے ہو تو كنتم تصدقون بل آثر تم الكفر ہمیں دکھاؤ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تم نے کفر کو ایمان پر على الإيمان، فكيف أهدى قوما ترجیح دی، پھر میں ایسے لوگوں کو کیسے ہدایت دے سکتا نبذوا الفرقان وراء ظهرهم ولا ہوں جنہوں نے فرقان کو پس پشت ڈال دیا اور وہ پر واہ يبالون؟ وكان الله قد قدر كسر نہیں کرتے۔اللہ نے مسیح کے ہاتھوں سے کسر صلیب الصليب على يد المسيح فقد کا کام مقدر کر رکھا تھا۔اور اس کے آثار ظاہر ہو گئے ظهرت آثارها فالعجب أن پس تعجب کی بات ہے کہ معترض غور نہیں کرتے۔کیا المعترضين لا يتنبهون۔ألا يرون وہ نہیں دیکھتے کہ عیسائیت ہر روز پکھلتی جارہی ہے أن النصرانية تذوب في كلّ يوم و اور ایک قوم کے بعد دوسری قوم اسے چھوڑ رہی يتركها قوم بعد قوم؟ ألا يأتيهم ہے۔کیا انہیں اطلاعات نہیں ملتیں یا یہ سنتے نہیں؟ الأخبار أو لا يسمعون؟ إنّ العلماء ان (عیسائیوں) کے علماء خود اپنے ہاتھوں سے هم يُقوّضون بأيديهم خيامهم، اپنے خیمے گرا رہے ہیں اور ان کے معزز توحید کی طرف وتهدى إلى التوحيد كرامهم ويذوب مذهبهم كل يوم و تنكسر ہدایت پارہے ہیں۔اُن کا مذہب ہر روز پکھلتا سهامهم، حتى إنا سمعنا أن جا رہا ہے اور ان کے تیر ٹوٹ رہے ہیں۔یہاں قیصر جرمن ترك هذه تک کہ ہم نے سنا ہے کہ قیصر جرمن نے یہ عقیدہ العقيدة، وأرى الفطرة السعيدة | چھوڑ دیا ہے۔اور نیک فطرت کا اظہار کر دیا ہے۔