تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات — Page 53
vi ہ مسلسل رابطہ رکھیں:۔پھر فصل کی نگہداشت کرنا بھی حکمت کا تقاضا ہے۔جب دعوت الی اللہ کرتے ہو یا کرو گے تو بہت لطف اٹھاؤ گے پھر دوبارہ اس شخص کو تلاش نہیں کرو گے اور اس سے دوبارہ نہیں ملو گے اور سہ بارہ اس سے نہیں ملو گے اور پھر چوتھی دفعہ اس سے نہیں ملو گے اور پھر پانچویں دفعہ نہیں ملو گے تو تم اپنے پھل سے محروم کر دئیے جاؤ گے۔کیونکہ وہ نیک اثر ا بھی دائگی نہیں ہوا۔اس لئے جب تک وہ تمہارا نہیں ہو جاتا تمہیں مسلسل اس کی طرف توجہ کرنی پڑے گی۔اگر توجہ نہیں کرو گے تو تمہاری مختیں ضائع ہوتی چلی جائیں گی۔۔دعاؤں سے آبیاری:۔جب تک کسی کھیتی کی آبیاری نہ کی جائے اس وقت تک وہ پھل نہیں دے سکتی اور پانی دینے کے دو طریق ہیں ایک دنیا میں علم کا پانی جو آپ دیتے ہیں لیکن اصل پھل اس فضل کو لگتا ہے جسے آسمان کا پانی میسر آجائے اور وہ آپ کے آنسوؤں کا پانی ہے جو آسمان میں تبدیل ہوتا ہے۔اگر محض علم کا پانی دے کر آپ کھیتی کو سینچیں گے تو ہر گز توقع نہ رکھیں کہ اسے بابر کٹ پھل لگے گا اور لازما دعا ئیں کرنی پڑیں گے۔لازماً خدا تعالیٰ کے حضور گریہ وزاری کرنی ہو گی۔اس سے مدد چاہتی ہوگی اور اس کے نتیجہ میں در حقیقت یہ مومن کے آنسو ہی ہوتے ہیں جو باران رحمت بنا کرتے ہیں۔موغطہ حسنہ حکمت کو پہلے رکھا پھر فرمایا وغطہ حسنہ سے کام لو۔موعظمہ حسنہ دلیل کے علاوہ ایک صاف اور کچی اور پاکیزہ نصیحت ہوتی ہے جو اپنے اندر ایک دلکشی رکھتی ہے اور اس کا کسی فرقہ وارانہ اختلاف سے کوئی کام نہیں ہوتا یہ براه راست دل سے نکلتی ہے اور دل پر اثر کر جاتی ہے پس دلیلوں کا نمبر بعد میں آئے گا۔ہمیشہ بات موعظہ حسنہ سے شروع کرو۔تم لوگوں کو یہ بتایا کرو کہ بھائی مجھے تم سے ہمدردی ہے تم لوگ ضائع ہو رہے ہو۔یہ معاشرہ تباہ ہو رہا ہے۔کیونکہ تباہ ہو رہا ہے اس پر غور کر د۔