تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات — Page 52
بہترین رنگ میں ادا کر سکتا ہوں۔بعض لوگوں کو بولنا نہیں آتا بعض لوگوں کو لکھنا نہیں آتا۔بعض لوگ پبلک میں لوگوں سے شرماتے ہیں۔لیکن علیحدہ علیحدہ چھوٹی مجالس میں بہت اچھا کلام کرتے ہیں بعض لوگ عوامی مجلسوں میں بڑا کھلا خطاب کر لیتے ہیں پس خدا نے جو مزاج بنایا ہے اگر کوئی اس مزاج سے ہٹ کر بات کرے گا تو اس سے جگ ہنسائی ہوگی۔۵- حالات حاضرہ کے مطابق:- پھر وقت الگ الگ ہوتے ہیں اور زمانے الگ الگ ہوتے ہیں وقت کے تقاضے بھی بدل جاتے ہیں۔۔حکمت کا یہ تقاضا ہے کہ ان اوقات سے بھی استفادہ کیا جائے اس لئے مختلف وقتوں میں مختلف قسم کی باتیں زیب دیتی ہیں اور وہ اثر کرتی ہیں مثلاً جب غم کی کیفیت ہو تو اس وقت اور قسم کی بات کی جاتی ہے۔اور جب خوشی کی کیفیت ہو تو اور طرح کی بات کی جاتی ہے اسی طرح خوف و ہر اس کا زمانہ ہو تو اور طرح سے بات کرنی پڑے گی۔۶۔مناسب انتخاب :- حکمت کا ایک تقاضا یہ ہے کہ مناسب زمین کا انتخاب کیا جائے دنیا میں بے شمار مخلوق ہے جس کو خدا تعالیٰ کی طرف بلانا ہے انسان نظری فیصلے سے یہ معلوم کر سکتا ہے کہ کن لوگوں پر نسبتا کم محنت کرنی پڑے گی۔بعض اوقات بعض احمدی بعض ایسے لوگوں کے ساتھ سر مارتے پھرتے ہیں جن کے متعلق ان کی فطرت گواہی دیتی ہے کہ یہ ضدی اور متعصب ہیں اور ان کے اندر تقویٰ نہیں ہے اور اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے تو ہدایت کا وعدہ ان لوگوں سے کیا ہے۔جو تقویٰ رکھتے ہیں جن کے اندر سچائی کو سچائی کہنے کی ہمت اور حوصلہ ہے (مسیح نے بھی کہا میں سوروں کے سامنے کس طرح موتی ڈالوں) سعید فطرت لوگوں کو چنیں ان میں سے بھی پہلے جرات مندوں کو چنیں جو مردانہ صفات رکھتے ہیں جو خود مبلغ بن جائیں۔