تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات

by Other Authors

Page 22 of 65

تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات — Page 22

۲۲ حضرت قاضی محمد نذیر صاحب فاضل مرحوم ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہیں۔ایک دفعہ ضلع سیالکوٹ میں ان کا پیر نادر شاہ صاحب سے ایک مناظرہ ختم نبوت کے موضوع پر ہو رہا تھا۔پیر صاحب جب بحث میں عاجز آگئے تو انہوں نے ایک مولوی کو کھڑا کر دیا اور اسے کہا کہ تم یہ اعلان کر دو کہ میں اسی طرح خدا کا نبی ہوں جس طرح مرزا صاحب نبی ہیں۔اور پیر صاحب حضرت قاضی صاحب سے مخاطب ہو کر کہنے لگے کہ اب اسے جھوٹا ثابت کرو۔اس پر قاضی صاحب اٹھے اور مجمع کو مخاطب کر کے کہا کہ دوستو! خدا کا شکر ہے کہ جو مسئلہ ان کے اور پیر صاحب کے درمیان زیر بحث تھا وہ حل ہو گیا ہے۔بحث یہ تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی امت میں نبی آسکتا ہے یا نہیں۔پیر صاحب نے عملاً تسلیم کر لیا ہے کہ آسکتا ہے۔یہ دیکھئے پیر صاحب کا نبی آپ کے سامنے کھڑا ہے! اب وہ چاہتے ہیں کہ میں اسے جھوٹا ثابت کروں تو مجھے اس کو جھوٹا ثابت کرنے کی ہر گز کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اسے خدا تعالیٰ نے نہیں بھیجا بلکہ ابھی ابھی پیر صاحب نے آپ سب کے سامنے اس سے نبوت کا دعویٰ کروایا ہے۔ظاہر ہے کہ ایسے شخص کو جھوٹا ثابت کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔یہ جواب سن کر پیر صاحب مبہوت رہ گئے اور جس غیر از جماعت دوست کو انہوں نے اپنی طرف سے مناظرہ میں ثالث بنایا ہوا تھا اس نے اسی وقت اپنے احمدی ہونے کا اعلان کر دیا ! ) قرآن مجید میں اللہ تعالی یہ اصول بیان فرماتا ہے " وَ اللهُ يَهْدِى من يشاء " (البقره: ۲۱۴) کہ ہدایت وہی پاتا ہے جس کے متعلق خدا چاہتا ہے۔نیز فرمایا " إِنَّ عَلَيْنَا لِّلْهُدَى (الیل: ۱۳) کہ بندوں کو ہدایت