تبلیغِ ہدایت — Page 52
ہونے والے ماموروں کے نام جو کسی نبی کے ذریعہ بتائے جاتے ہیں۔وہ عام طور پر کسی باطنی حقیقت کی طرف اشارہ کرنے والے ہوتے ہیں۔اس لئے انہیں ہمیشہ ظاہر پر محمول کرنا درست نہیں ہوتا بلکہ عام طور پر ان کے استعمال میں غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ آنے والے موعود اور اس کے نام کے درمیان کسی گہرے اور بار یک تعلق کو ظاہر کریں۔مثلاً بنی اسرائیل کو یہ وعدہ دیا گیا تھا کہ مسیح کے ظہور سے پہلے حضرت الیاس کا ظہور ہو گا جو حضرت مسیح ناصری سے قریباً ساڑھے آٹھ سو سال پہلے گزر چکے تھے۔جن کی نسبت یہودیوں میں یہ عقیدہ تھا کہ وہ آسمان کی طرف اُٹھائے گئے ہیں۔(۲- سلاطین باب ۲ آیت ۱۱) اس پر یہود نے الیاس کے نزول سے یہ سمجھا کہ وہ الیاس نبی جو گذر چکا وہی بذات خود دوبارہ نازل ہوگا اور اس کے بعد مسیح آئے گا۔اس لئے جب حضرت عیسی نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا تو یہود نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ ہماری کتابوں میں تو لکھا ہے کہ مسیح سے پہلے الیاس نازل ہوگا، لیکن چونکہ ابھی تک الیاس نہیں آیا اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دعویٰ درست نہیں ہو سکتا۔اس کا جواب حضرت عیسی علیہ السلام نے دیا کہ الیاس کے آنے کی جو خبر دی گئی تھی اُس سے خود الیاس کا آنا مراد نہ تھا۔بلکہ وہ ایک ایسے نبی کی خبر تھی کہ جو الیاس کی خُو بُو پر اس کا مثیل بن کر آنا تھا اور وہ آپکا اور وہی بیٹی ہے جس کی آنکھیں ہوں دیکھے۔( متی باب ۱۱۔آیت (۱۴) لیکن ظاہر پرست یہود اسی بات پر جمے رہے کہ خود الیاس کو نازل ہونا چاہئے اور اس طرح وہ نجات سے محروم ہو گئے۔( متی باب ۱۷) اس مثال سے یہ بات بالکل صاف ہو جاتی ہے کہ پیشنگوئیوں میں جو نام آنے والے مصلحوں کے بتائے جاتے ہیں وہ ہمیشہ ظاہر میں پائے جانے ضروری نہیں ہوتے بلکہ وہ بالعموم کسی باطنی مشابہت کی طرف اشارہ کرنے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔مثلاً کجا الیاس نبی کا آسمان سے نازل ہونا اور کجا بیچی نبی کا زمین سے پیدا ہونا! مگر حضرت مسیح بیٹی کو ہی الیاس قرار دے رہے ہیں کیونکہ وہ الیاس کی خُوبو پر آیا تھا۔یہ مثال اس بات کو بھی واضح کر رہی ہے کہ خدا کے کلام میں جب کسی گذشتہ نبی کے آسمان سے نازل ہونے کی پیشگوئی ہو تو اس سے یہ مراد نہیں ہوتا کہ وہی گذشتہ نبی آسمان کے پردوں کو پھاڑتا ہوا زمین پر اُترے گا بلکہ اس سے اس کے کسی مثیل کا آنا 52