تبلیغِ ہدایت — Page 51
مریم کے الفاظ کیوں استعمال کئے گئے ؟ نزول کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ مسیح موعود آسمان سے نازل ہوگا اور ابن مریم کا لفظ بتاتا ہے کہ حضرت مسیح ناصری خود نفس نفیس تشریف لائیں گے۔سواس کے لئے اچھی طرح یاد رکھنا چاہئے کہ اول تو کسی مرفوع متصل صحیح حدیث میں نزول کے ساتھ سماء کا لفظ استعمال نہیں ہوا کہ تا آسمان سے اترنے کے معنے لئے جائیں۔علاوہ ازیں نزول کے معنوں پر غور نہیں کیا گیا عربی میں نزول کے معنے ظاہر ہونے اور آنے کے بھی ہیں۔مثلاً قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : - قَدْ اَنْزَلَ اللهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا رَسُوْلَا يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ أَيَتِ اللَّهِ (سورہ طلاق ع ۲) یعنی اللہ نے تمہاری طرف ایک یاد کرانے والا رسول اتارا ہے جو تم پر اللہ کی آیات پڑھتا ہے۔اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق نزول کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔حالانکہ سب جانتے ہیں کہ آپ آسمان سے نہیں اترے تھے۔بلکہ اسی زمین میں پیدا ہوئے تھے۔پھر قرآن شریف فرماتا ہے : - وَانْزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيْهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ للناس ( سورہ الحدید ع (۳)۔یعنی ”ہم نے لوہا اتارا ہے جس میں لڑائی کا بڑا سامان ہے اور اس میں لوگوں کے لئے اور بھی بہت سے فوائد ہیں۔لیجئے لوہا بھی آسمان سے اتر رہا ہے! ان آیات سے ظاہر ہے کہ لفظ نزول کے معنے ہمیشہ لفظی طور پر اوپر سے اترنے کے نہیں ہوتے بلکہ اکثر دفعہ نزول کا لفظ اس چیز کے متعلق استعمال کیا جاتا ہے جو خدا کی طرف سے بنی نوع انسان کو بطور ایک نعمت اور رحمت کے دی جاتی ہے۔پس لفظ نزول سے یہ نتیجہ نکالنا کہ مسیح آسمان سے نازل ہوگا ایک سخت غلطی ہے۔پھر کیا ناظرین نے یہ نہیں سنا کہ عربی میں مسافر کو نزیل کہتے ہیں اور جس جگہ قیام کیا جاوے وہ منزل کہلاتی ہے علاوہ ازیں بعض احادیث میں مسیح کے متعلق بعث اور خروج کے الفاظ بھی آئے ہیں۔پس اس صورت میں جو مفہوم بعث اور خروج اور نزول کے درمیان مشترک ہے وہی مقصود سمجھا جائے گا۔ابن مریم کے نام میں حکمت اب رہا ابن مریم کے نام کا سوال، سو اس کے متعلق اچھی طرح سمجھ لو کہ آئندہ مبعوث 51