تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 53 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 53

مراد ہوتا ہے۔پس معلوم ہوا کہ مسیح کے متعلق جو یہ کہا گیا ہے کہ وہ نازل ہوگا تو اس سے خود مسیح کا آسمان سے نازل ہونا مراد نہیں بلکہ کسی مثیل مسیح کا مبعوث ہونا مراد ہے۔جیسا کہ الیاس نبی کے آسمان سے نازل ہونے سے ایک مثیل الیاس یعنی بیٹی کا پیدا ہونا مراد تھا۔غرض عیسی ابن مریم کے ظاہری نام پر اڑنا اور صرف اس نام کی وجہ سے آنے والے مسیح کا انکار کر دینا سخت ہلاکت کی راہ ہے جس سے پر ہیز لازم ہے کیونکہ نام ہمیشہ ظاہر میں پائے جانے ضروری نہیں ہوتے بلکہ ان کے اندر معنوی حقیقت مخفی ہوا کرتی ہے۔ایک اور مثال جو معاملہ زیر بحث کو اور بھی واضح کر دیتی ہے یہ ہے کہ قرآن شریف کی سورہ صف میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ نے ایک ایسے رسول کی خبر دی تھی جو ان کے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا۔( سورہ صف ع۱) اب ہمارے مخالف مسلمان سب مانتے ہیں کہ یہ پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے پوری ہو چکی ہے لیکن ہر ایک جانتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل نام محمد تھانہ کہ احمد۔یہ درست ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبوت کے دعوے کے بعد یہ فرمایا کہ میں احمد بھی ہوں، لیکن دعویٰ کے بعد اس نام کو اپنی طرف منسوب کرنا مخالف پر کسی طرح حجت نہیں ہو سکتا۔مخالف پر تو جنت تب ہو جب یہ ثابت کیا جاوے کہ واقعی آپ کے بزرگوں کی طرف سے یہ نام آپ کا رکھا گیا تھا یا یہ کہ دعوے سے پہلے آپ اس نام سے پکارے جاتے تھے، لیکن کسی صحیح حدیث سے یہ ثابت نہیں کہ آپ دعویٰ سے پہلے کبھی اس نام سے پکارے گئے ہوں یا کسی بزرگ نے بچپن میں آپ کا یہ نام رکھا ہو۔اس لئے اس شبہ کا سوائے اس کے اور کیا جواب ہوسکتا ہے کہ یہ کہا جاوے کہ آپ کے اندر صفت احمدیت پائی جاتی تھی اور یہ کہ آسمان پر آپ کا نام احمد " بھی تھا جیسا کہ آسمان پر بیٹی کا نام الیاس بھی تھا؟ ان دو مثالوں سے یہ بات اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ پیشگوئیوں میں جو نام بتائے جاتے ہیں وہ لازماً ظاہر میں پائے جانے ضروری نہیں ہوتے بلکہ عموماً وہ صفاتی نام ہوتے ہیں اور کسی باطنی حقیقت کی طرف اشارہ کرنے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔اس میں بھید یہ ہے کہ خدا کو حقیقت اشیاء سے تعلق ہے ان کے ظاہری ناموں سے تعلق نہیں۔لوگ بیشک عرف کی خاطر ظاہری ناموں کا لحاظ رکھتے ہیں مگر خدا کی نظر میں اصل نام صفاتی 53