تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 50 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 50

رنگ اور کہاں گندم گوں۔پھر کہاں گھنگر الے بال اور کہاں سید ھے اور لمہے۔اس سے زیادہ وضاحت کیا ہوگی۔دونوں مسیحوں کی تصویریں ناظرین کے سامنے رکھ دی گئی ہیں اور یہ تصویریں بھی حضرت افضل الرسل خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ کی کھینچی ہوئی ہیں۔ناظرین خود فیصلہ کرلیں کہ کیا ان دونوں تصویروں میں ایک آدمی کی شکل نظر آتی ہے؟ جسے خدا نے آنکھیں دی ہوں وہ تو ہر گز دونوں کو ایک نہیں کہہ سکتا۔حضرت مرزا صاحب کیا خوب فرماتے ہیں کہ موعودم و بجلیه ماثور آمدم حیف است گربدیده نه بینند منظرم رنگم چول گندم است و بموفرق بین است زانسان که آمد است در اخبار سرورم ایں متقدمم نہ جائے شکوک است والتباس سید جدا کندز مسیحائے احمرم یعنی میں ہی مسیح موعود ہوں اور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے حلیہ کے مطابق آیا ہوں تو اب افسوس ہے اس آنکھ پر جو مجھے نہیں پہچانتی۔میرا رنگ گندم گوں ہے اور بالوں میں بھی مجھے اس شخص سے کھلا کھلا امتیاز حاصل ہے جس کا ذکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث میں آتا ہے۔سواب میرے معاملہ میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہی کیونکہ ہمارے آقا وسردار نے خود مجھے سرخ رنگ والے مسیح سے جدا کر دیا ہے؟“ نزول کی حقیقت مندرجہ بالا دلائل سے یہ بات روز روشن کی طرح ظاہر ہو جاتی ہے کہ آنے والا مسیح گذشته مسیح ناصری سے بالکل الگ شخصیت رکھتا ہے۔دیکھو قرآن گواہی دے رہا ہے کہ اسلام کے تمام خلفاء مسلمانوں میں سے ہونگے۔حدیث بیان کر رہی ہے کہ مسیح موعود اسی امت میں سے ایک فرد ہے اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر دو مسیحوں کے الگ الگ فوٹو ہمارے سامنے رکھ کر کسی مزید تشریح کی ضرورت باقی نہیں چھوڑتے تو اب شبہ کی کیا گنجائش رہی ؟ مگر ایک شبہ ضرور باقی رہتا ہے کہ جب مسیح موعود نے اسی امت میں سے ہونا تھا تو پھر اس کے متعلق نزول اور ابن 50