تبلیغِ ہدایت — Page 49
یعنی ”میں نے کشف میں عیسی اور موسیٰ علیہما السلام دونوں کو دیکھا۔عیسی تو سرخ رنگ کے تھے اور ان کے بال گھنگر الے تھے اور سینہ چوڑا تھا اور موسیٰ گندم گوں رنگ کے تھے اور بھاری جسم والے تھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے کوئی شخص زُط قبیلہ میں سے ہے۔اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عیسی بن مریم کا یہ حلیہ بیان کیا ہے کہ وہ سرخ رنگ کے تھے اور ان کے بال گھنگر الے تھے اس بات کا ثبوت کہ یہاں عیسیٰ سے گذشتہ عیسی مراد ہیں۔خود اسی حدیث میں موجود ہے اور وہ یہ کہ ان کو ایک گذشتہ نبی یعنی موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ناظرین حضرت مسیح ناصری کے اس حالیہ کو اچھی طرح یا درکھیں۔پھر ایک اور حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:- بينما انا نائم اطوف بالكعبة فاذا رجل ادمُ سَبط الشعر ينطف او يهراق رأسه ماء فقلت من هذا قالوا ابن مریم۔۔۔۔الخ۔( بخاری کتاب الفتن باب ذکر الدجال) یعنی ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں کعبہ کا طواف کر رہا ہوں اس وقت اچانک ایک شخص میرے سامنے آیا جو گندم گوں رنگ کا تھا اور اس کے بال سیدھے اور لمبے تھے۔میں نے پوچھا یہ کون ہے تو مجھے بتایا گیا کہ یہ سیح ابن مریم ہے اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آنے والے مسیح کا یہ حلیہ بیان فرماتے ہیں کہ وہ رنگ کا گندم گوں ہوگا اور اس کے بال سیدھے اور لمبے ہونگے۔اس بات کا ثبوت کہ اس حدیث میں ابن مریم سے آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا سیخ مراد ہے۔یہ ہے کہ اسی حدیث میں آگے چل کر دجال کا بھی ذکر ہے۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے اسی موقعہ پر دجال کو بھی دیکھا۔لہذا ثابت ہوا کہ یہ سیح “ وہ ہے جو دجال کے مقابلہ میں ظاہر ہوگا اب معاملہ بالکل صاف ہے۔حضرت مسیح ناصری جو بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے اُن کا حلیہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ سُرخ رنگ کے تھے اور ان کے بال گھنگر الے تھے لیکن آنے والا مسیح جو دجال کے مقابل پر ظاہر ہوگا اس کا حلیہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس کا رنگ گندم گوں ہوگا اور بال سید ھے اور لمبے ہونگے۔دونوں خلیوں میں فرق ظاہر ہے کسی تشریح کی ضرورت نہیں۔کہاں سُرخ 49