تبلیغِ ہدایت — Page 48
پھر یہی نہیں بلکہ حدیث بھی صاف طور پر بتا رہی ہے کہ مسیح موعود امت محمدیہ میں سے ہی ہوگا اور اسی اُمت کا ایک فرد ہوگا اور باہر سے نہیں آئے گا چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:- كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ (بخاری ومسلم بحوالہ مشکوۃ باب نزول عیسی بن مریم ) یعنی ” کیا ہی اچھا حال ہو گا تمہارا اے مسلمانو! جب تم میں ابن مریم نازل ہوگا اور وہ تمہارا امام ہوگا تمہی میں سے“۔یہ حدیث غیر تاویل طلب الفاظ میں بتا رہی ہے کہ مسیح موعود مسلمانوں میں سے ہی ایک فرد ہو گا جیسا کہ منگم کے لفظ سے ظاہر ہے بے شک آنے والے کو ابن مریم کے نام سے یاد کیا گیا ہے مگر منگم کا لفظ پکار پکار کر کہ رہا ہے کہ یہ ابن مریم وہ نہیں جو پہلے ہو گذرا۔بلکہ اے مسلمانو! یہ تمہیں میں سے ایک شخص ہوگا۔یہ آگے چل کر بتایا جائے گا کہ ابن مریم کے الفاظ استعمال کرنے میں کونسا بھید تھا مگر فی الحال ناظرین اتنا دیکھیں کہ کیا منگم کے لفظ نے مسیح ناصری کی آمد ثانی کے عقیدہ کو جڑ سے کاٹ کر نہیں رکھ دیا؟ ہائے افسوس! حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صاف لفظوں میں خبر دے رہے ہیں کہ مسیح موعود اسی امت میں سے ہوگا مگر مسلمان مسیح ناصری کی محبت میں اس شرک کے مقام تک پہنچ چکے ہیں کہ خواہ مخواہ اپنی اصلاح کے لئے بنی اسرائیل کے قدموں پر گر رہے ہیں۔خدا اس قوم پر رحم کرے کہ یہ خیر الامت ہو کر کہاں آ کر گری۔غرض مسیح موعود کے متعلق امامکم منکم کے الفاظ فرما کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سارے جھگڑے کا فیصلہ کر دیا ہے اور شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی مگر آپ کی شفقت کو دیکھو کہ با وجود صاف لفظوں میں فرما دینے کے آنے والا مسیح میری امت میں سے ہی ایک فرد ہو گا۔آپ اس مسئلہ پر خاموش نہیں ہوئے بلکہ مزید تشریح فرمائی۔چنانچہ فرماتے ہیں:- رأيتُ عيسى و موسى فاما عيسى فَأَحْمَرُ جَعَد عريض الصدر واما موسى فَادمُ جَسِيمٌ سَبْطُ الشَّعْرِ كَأَنَّهُ مِن رَّجالِ القُظ۔(بخاری جلد ۲ کتاب بده افلق ) 48