تبلیغِ ہدایت — Page 37
نہیں ہوئے تو خیر حضرت مسیح زندہ ہونگے لیکن اگر وہ گمراہ ہو چکے ہیں اور ضرور ہو چکے ہیں تو ماننا پڑے گا کہ حضرت مسیح بھی وفات پاچکے ہیں۔کیونکہ قرآن شریف صاف فرماتا ہے کہ مسیح کی وفات عیسائیوں کے گمراہ ہونے سے پہلے واقع ہوئی۔اب دیکھو یہ آیت کس صفائی کے ساتھ مسیح کو وفات شدہ ثابت کر رہی ہے۔یہ سوال و جواب قیامت سے پہلے ہو یا قیامت کے بعد ہمیں اس سے غرض نہیں مگر مسیح کی وفات بہر حال مسیحیوں کے گمراہ ہونے سے پہلے واقع ہوئی اور چونکہ مسیحی لوگ یقیناً مسیح کی اصل تعلیم کو چھوڑ چکے ہیں اور مسیح“ کو خدا ماننے لگ گئے ہیں۔بلکہ وہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ مبارک سے بھی پہلے کے اس باطل عقیدہ پر قائم ہیں جیسا کہ قرآن شریف فرماتا ہے : - لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةِ - (سورۃ مائده ع ۱۰) یعنی ” وہ لوگ یقینا کا فر ہیں جنہوں نے کہا کہ خدا تین میں سے ایک ہے۔پس ثابت ہوا کہ حضرت مسیح کم از کم آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ مبارک سے پہلے وفات پاچکے تھے۔وہوالمراد۔اس آیت سے یہ بھی ظاہر ہے کہ مثیل مسیح، یعنی مسیح موعود جس کی آمد آخری دنوں میں مقدر ہے وہ حضرت عیسی نہیں ہیں۔کیونکہ اگر یہ مانا جائے کہ حضرت مسیح ناصری ہی قیامت سے پہلے نازل ہونگے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ وہ قیامت سے پہلے اپنی امت کے فساد سے بھی واقف ہو جائیں گے اور انہیں علم ہو جائے گا کہ میری امت مجھے خدا بنارہی ہے تو اس صورت میں وہ قیامت کے دن کس طرح لاعلمی کا اظہار کر سکتے ہیں؟ کیونکہ مسیح کی طرف سے یہ نعوذ باللہ ایک جھوٹ ہوگا۔اگر وہ با وجود علم رکھنے کے پھر خدا کے سامنے اپنی لاعلمی کا اظہار کریں۔پس ثابت ہوا کہ وہ قیامت سے پہلے دوبارہ ہرگز نازل نہیں ہونگے۔اب اگر بفرض محال مان بھی لیا جائے کہ حضرت مسیح " آسمان پر تشریف لے گئے ہیں تو پھر بھی یہ آیت مسیح ناصری کے دوبارہ نزول کے راستہ میں ایک ایسا گراں پتھر ہے جو اپنی جگہ سے ہلایا نہیں جاسکتا۔کیونکہ بہر حال یہ ظاہر ہے کہ حضرت مسیح قیامت کے دن خدا کے سامنے اپنی امت کے گمراہ ہو جانے کے متعلق لاعلمی ظاہر کریں گے۔لہذا یہ ثابت 37