تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 36 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 36

تو ہی اُن کو دیکھنے والا تھا۔ان الفاظ میں حضرت مسیح صرف دو زمانوں کا ذکر کرتے ہیں جن میں سے وہ یکے بعد دیگرے گذرے۔پہلا زمانہ وہ ہے جب وہ اپنے متبعین کے اندر موجود تھے جیسا کہ مَا دُمْتُ فِيهِمْ کے الفاظ سے ظاہر ہے اور دوسرا زمانہ وفات کے بعد کا ہے جو الفاظ فَلَمَّا تَوَفَّيَتَنِئ میں بیان کیا گیا ہے۔اب اگر پہلے زمانہ یعنی متبعین کے اندر رہنے والے زمانہ کے بعد مسیح پر بجائے وفات کے آسمان پر اٹھائے جانے کا زمانہ آیا ہوتا تو موجودہ جواب کی جگہ مسیح" کو یوں کہنا چاہئے تھا کہ مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا رَفَعْتَنِى إِلَى السَّمَاءِ حَيًّا یعنی ” میں اپنے متبعین کو دیکھتا رہا جب تک کہ میں ان میں رہا لیکن جب اے خدا تو نے مجھے زندہ آسمان کی طرف اُٹھالیا تو پھر تو ہی انہیں دیکھنے والا تھا مگر مسیح کا جواب یہ نہیں اس لئے ثابت ہوا کہ متبعین کے اندر رہنے والے زمانے کے بعد جو زمانہ مسیح پر آیا وہ وفات ہی کا زمانہ تھانہ کہ کوئی اور زمانہ۔غور کرو کہ جو جواب مسیح نے دیا ہے وہ صاف بتا رہا ہے کہ وہ چیز جو مسیح کے پہلے زمانہ یعنی تبعین کے درمیان زندگی گزار نے والے زمانہ کے معا بعد آنے والی یا بالفاظ دیگر اس زمانے کو قطع کر نیوالی اور نیا دور شروع کرنے والی چیز آسمان پر جانا ہو تو مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَيْتَنِی والا جواب صریح غلط ٹھہرتا ہے۔پھر یہ بات بھی غور طلب ہے کہ خدا تعالیٰ کے سوال کے جواب میں حضرت مسیح اس بات سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کے متبعین اُن کو اور ان کی ماں کو بطور خدا کے پوجنے لگ گئے جیسا کہ ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ مَاقُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا اَمَرْتَنِيْ بِهِ أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيَتَنِي كُنتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ط - یعنی ”اے خدا میں تو اپنے متبعین کو وہی کہتا رہا جو تو نے مجھے حکم دیا تھا اور وہ یہ کہ عبادت کرو اس خدا کی جو میرا اور تمہارا دونوں کا رب ہے اور میں انہیں دیکھتار ہا جب تک میں ان میں رہا لیکن جب اے خدا تو نے مجھے وفات دیدی تو پھر اس کے بعد تو ہی ان کو دیکھنے والا تھا۔حضرت مسیح کے اس جواب سے صاف ظاہر ہے کہ وہ اپنے متبعین کے بگڑ جانے کے متعلق اپنی لاعلمی ظاہر کر کے اپنی بریت کا اظہار کر رہے ہیں۔جس کے بالفاظ دیگر یہ معنی ہیں کہ مسیحی لوگ حضرت مسیح کی وفات کے بعد گمراہ ہوئے۔پس اب ہم نے دیکھنا یہ ہے کہ آیا عیسائی لوگ گمراہ ہو چکے ہیں یا نہیں ، اگر وہ گمراہ 36