تبلیغِ ہدایت — Page 38
ہوا کہ قیامت کے دن سے پہلے وہ اپنی امت کو فساد اور گمراہی کی حالت میں کبھی نہیں دیکھیں گے، لیکن ہم بتا آئے ہیں کہ اگر وہ دوبارہ نازل ہوں تو قیامت سے پہلے ہی اُن کو اپنی امت کے بگڑ جانے کا علم ہو جائے گا۔خصوصاً جبکہ مسیح موعود کا بڑا کام ہی کسر صلیب ہے تو اس صورت میں لاعلمی کا اظہار کیسا؟ لہذا ثابت ہوا کہ اگر بفرض محال حضرت مسیح آسمان پر تشریف لے بھی گئے ہیں تو پھر بھی آنے والا مسیح یقینا اور ہے اور مسیح ناصری وہیں آسمان پر ہی فوت ہو گئے ہو نگے کیونکہ بہر حال ایک بشر کا آسمان پر ہونا اُسے موت سے تو نہیں بچا سکتا جو قر آنی تعلیم کے مطابق ہر انسان کے لئے مقدر ہے۔اب رہی لفظ توئی کی بحث جو اس آیت میں واقع ہوا ہے اور جس کے معنے ہمارے مخالف پورا اُٹھا لینے کے کرتے ہیں سو اس کے متعلق اچھی طرح یا درکھنا چاہئے کہ عربی زبان کی رُو سے جب خدا فاعل ہو اور کوئی انسان مفعول بہ ہو تو توئی کے معنے سوائے رُوح قبض کر لینے کے اور کوئی نہیں ہوتے یہ ہمارا دعوی ہے جسے ہم ہر طرح ثابت کرنے کو تیار ہیں۔حضرت مرزا صاحب نے بہت بھاری انعام مقرر کیا اور مخالف مولویوں کو بار بار پہینچ دیا کہ وہ کسی جگہ یہ دکھا دیں کہ جب خدا فاعل ہو اور انسان مفعول بہ ہو تو تو فی کے معنے سوائے قبض روح کے کوئی اور بھی ہو سکتے ہیں مگر کوئی ایسی مثال پیش نہیں کی گئی۔آج ہم اس چیلنج کو دہراتے ہیں دیکھئے کوئی جواب ملتا ہے یا نہیں؟ تاج العروس جوعربی لغت کی سب سے بڑی کتاب ہے اس میں لکھا ہے۔توفاه الله عز وجل اذا قبض نفسه یعنی جب ہم یہ کہیں کہ تو فاہ اللہ تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اللہ نے اُس کی رُوح قبض کر لی۔پھر یہ بھی لکھا ہے کہ توفی فلان اذا مات یعنی جب کوئی مرجائے تو کہتے ہیں ٹوٹی فلان۔پس یہ یقینی بات ہے کہ توئی کی معنے (جب خدا فاعل ہو اور انسان مفعول به ) صرف قبض روح کے ہوتے ہیں۔ہاں یہ ضرور ہے کہ چونکہ نیند میں بھی ایک حد تک قبض روح ہوتا ہے اس لئے توفی کا لفظ بعض اوقات نیند کے تعلق میں بھی استعمال کر لیا جاتا ہے لیکن چونکہ نیند کے وقت کا قبض روح عارضی اور ناقص ہوتا ہے اس لئے اصل اور مستقل معنے توئی کے وفات دینے ہی کے ہیں۔اسی لئے عربی میں یہ قاعدہ ہے کہ جب لفظ تو ٹی کو نیند کے تعلق میں استعمال کرنا ہو تو اس کے ساتھ 38