تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 253 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 253

اب یہ سارا مضمون بتا رہا ہے کہ اس جگہ اُن لوگوں کا ذکر ہے جن کی طرف رسول مبعوث ہوتا ہے یعنی اس جگہ یہ بتایا گیا ہے کہ رسول ان تمام لوگوں کا مطاع ہوتا ہے جن کی طرف وہ مبعوث کیا جاتا ہے۔پس اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ وہ کسی دوسرے رسول کا مطیع نہیں ہو سکتا ؟ قرآن شریف کھول کر دیکھو۔کیا حضرت موسی اپنے بھائی ہارون سے یہ نہیں فرماتے کہ أَفَعَصَيْتَ أَمْرِى ( سورۃ ط ع ۵) یعنی اے ہارون! کیا تو نے میرے حکم کی نافرمانی کی؟“ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ہارون حضرت موسیٰ کے ماتحت تھے حالانکہ ہارون بھی اللہ تعالیٰ کے نبی تھے مگر چونکہ وہ حضرت موسی کے ماتحت تھے اس لئے حضرت موسی نے اُن پر غصہ کا اظہار کیا اور حکم عدولی پر سختی سے جواب طلب فرمایا۔اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقعہ پر فرمایا کہ لو كان موسى حيا لما وسعه الا اتباعی ( بخاری ) یعنی اگر موسیٰ میرے وقت میں زندہ ہوتے تو میری اطاعت کے بغیر اُن کو بھی چارہ نہ ہوتا۔ان سب مثالوں سے ظاہر ہے کہ ایک نبی دوسرے نبی کے ماتحت ہو سکتا ہے۔ہاں جن لوگوں کی طرف وہ مبعوث کیا جاتا ہے اُن کا وہ ضرور مطاع ہوتا ہے۔اب میں بفضلہ تعالیٰ ان تمام دلائل و شبہات کو مختصر ارڈ کر چکا ہوں۔جو مسئلہ ختم نبوت کی بحث میں مخالفین کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں۔لہذا اب میں نہایت مختصر طور پر بعض اُن براہین کا ذکر بھی کر دینا چاہتا ہوں جو ہم احمدی لوگ اپنے عقیدہ کی تائید میں رکھتے ہیں۔وما توفیقی الا بالله _ سب سے پہلے یہ جاننا چاہئے کہ جو دلائل ہم نے مخالفین کے دلائل کے رد میں درج کئے ہیں وہ جہاں مخالفین کے عقیدہ کو باطل ثابت کر رہے ہیں وہاں وہ ساتھ ہی ہمارے عقیدہ کا صدق بھی عیاں کر رہے ہیں۔گویا وہ ایک دو دھاری تلوار کی طرح ہیں جو ایک طرف تو مخالفین کے قول کو کالتی ہے اور دوسری طرف ہمارے قول کو قائم کر رہی ہے پس جو بحث او پر گذر چکی ہے وہی اس بات کے ثابت کرنے کے لئے بھی کافی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ کلی 253