تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 254 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 254

طور پر مسدود نہیں ہوا بلکہ صرف تشریعی نبوت بند ہوئی ہے اور یہی ہمارا عقیدہ ہے۔دراصل اس مسئلہ میں یہ قطعاً ضروری نہیں کہ ہم اپنے عقیدہ کی تائید میں بھی کچھ دلائل بیان کریں کیونکہ اس مسئلہ میں ہم مدعی نہیں بلکہ مجیب ہیں اور مدعی کی حیثیت ہمارے مخالفین کی ہے۔ہمارے عقیدہ کے ثبوت کے لئے صرف اس قدر کافی ہے کہ جب سے دنیا کا سلسلہ شروع ہوا ہے سلسلہ نبوت جاری چلا آیا ہے پس جو شخص اس بات کا مدعی ہوتا ہے کہ اب یہ سلسلہ منقطع ہو گیا ہے اس کا فرض ہے کہ اپنے اس دعوی کی تائید میں دلائل پیش کرے اور اگر وہ ایسا نہ کر سکے یا جو دلائل وہ پیش کرے وہ جرح سے باطل ثابت ہو جائیں تو یہ ماننا پڑے گا کہ سلسلہ نبوت بدستور جاری ہے اور یہ قطعا ضروری نہیں ہوگا کہ ہم اس کے جاری ہونے کے متعلق کوئی مزید دلائل بیان کریں۔الہذا مخالفین کے عقیدہ کے رڈ میں جو کچھ اوپر بیان ہوا ہے وہی اس بات کے ثابت کرنے کے لئے بھی کافی ہے کہ سلسلہ نبوت اب بھی جاری ہے لیکن ایک متلاشی حق کی مزید تسلی کے لئے نہایت مختصر طور پر بعض زائد باتیں بھی اس جگہ بیان کی جاتی ہیں۔قرآن شریف سے سلسلہ نبوت کا جاری ہونا ثابت ہے سب سے پہلے ہم قرآن شریف کو لیتے ہیں اس ضمن میں آیت خاتم النبین کی بحث اوپر گذر چکی ہے اور یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ نبوت کا دروازہ بند کرنا تو در کنار یہ آیت نہایت واضح طور پرطنی اور تابع نبوت کا دروازہ کھول رہی ہے۔اس کے علاوہ ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں سورۃ فاتحہ میں یہ دعا سکھاتا ہے کہ: - اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی ”اے ہمارے رب تو ہمیں صراط مستقیم کی طرف ہدایت دے۔یعنی ان لوگوں کے طریق پر چلا جن پر تو نے اپنے انعام کئے۔“ اس جگہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو یہ ہدایت فرماتا ہے کہ تم مجھ سے یہ دُعا کیا کرو کہ اے خدا ہمیں بھی اس مبارک گروہ میں شامل فرما جو منعم علیہم کی جماعت ہے اب ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ منعم علیہم 254