تبلیغِ ہدایت — Page 252
اُسے دنیا میں قائم کرے گا۔گویا مسیح موعود پر قرآن شریف کا دوبارہ نزول ہوگا پس ان معنوں کے لحاظ سے گویا حضرت مرزا صاحب علیہ السلام بھی شریعت لائے ہیں اور صاحب کتاب ہیں جس کی آنکھیں ہوں دیکھے۔ہر نبی یقیناً مطاع ہوتا ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ کسی دوسرے نبی کا مطیع نہیں ہوتا۔کہا جاتا ہے کہ قرآن شریف فرماتا ہے:۔وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلِ الَّا لِيُطَاعَ بِاذْنِ اللَّهِ (سورة نساء ع ٩) یعنی ”ہم کوئی رسول نہیں بھیجتے مگر اس لئے کہ وہ مطاع ہو۔یعنی لوگوں کا واجب الاطاعت امام بنے۔" اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر رسول کے لئے مطاع ہونا ضروری ہے پس ایسا شخص رسول نہیں ہو سکتا جو کسی دوسرے رسول کا مطیع ہو۔مگر یہ ایک نہایت بودا خیال ہے جو محض قلت تدبّر سے پیدا ہوا ہے کیونکہ اس آیت میں تو صرف یہ بتایا گیا ہے کہ رسول اس لئے بھیجا جاتا ہے کہ جن کی طرف وہ بھیجا گیا ہے وہ اس کی اطاعت کریں اور وہ جو کچھ کہے اُس کے مطابق چلیں۔چنانچہ اس آیت کے ساتھ ہی دوسری آیت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔فَلَاوَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِي مَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِنْ مَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔(سورة نساء ع۹) یعنی ” خدا کی قسم یہ لوگ ہرگز اپنے دعوی ایمان میں صادق نہیں ہو سکتے جب تک یہ اپنے تمام جھگڑے تیرے پاس فیصلہ کے لئے نہ لائیں۔اور پھر تو جو فیصلہ کرے اس کے آگے اُن کے سر تسلیم شرح صدر کے ساتھ خم نہ ہو جائیں۔“ 252