تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 165 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 165

دعوی بھی نہیں مل سکتا عیسائی اپنے منہ سے جو چاہیں کہیں مگر ہیں تو انجیل کی تعلیم سے کام ہے جس کو وہ اپنی کتاب سمجھتے ہیں اور انجیل ان مسائل کے متعلق ایک بت کی طرح خاموش ہے۔انجیل سے اگر کچھ ثابت ہوتا ہے تو یہی کہ خدا ایک ہے کوئی اس کا شریک نہیں اور مسیح اس کا ایک برگزیدہ بندہ تھا اور بس۔چلو چھٹی ہوئی اور ساری بحث کا خاتمہ ہو گیا۔خوب غور کرو کہ مذہبی اصول کو جن پر سارے معاملہ کا دارومدار ہے۔سیاق و سباق اور حالات کے خلاف رکیک استنباطوں سے نکالنا ایک مضحکہ خیز بات ہے۔اصول کے متعلق تو مذہب کو ایک صاف اور بین دعوئی پیش کرنا چاہیئے جو ص صریح کی طرح ثابت ہو۔اگر اصول مذہب میں بھی رکیک استنباطوں سے کام لیا جاوے تو مذہبی معتقدات میں امان اٹھ جاتا ہے۔دیکھو قرآن شریف نے اسلام کے اصول کے متعلق اپنے دعاوی کیسے کھلے اور بین اور غیر تاویل طلب الفاظ میں بیان کئے ہیں اور پھر اُن کو بار بارڈ ہرا کر و یا ایک سورج چڑھا دیا ہے مگر انجیل میں یہ بات قطعاً مفقود ہے۔دوسرا مرتبہ دلیل کا ہے سو اس میں بھی انجیل بالکل گنگ ہے اور دعاوی میں تو خیر مسیحی لوگ دُور کی کھینچ تان اور رکیک استنباطوں کے ساتھ کچھ تانا بانا کھڑا کر بھی دیتے ہیں۔مگر دلائل کہاں سے لائیں سونا چار کچھ زید کے دماغ سے لیکر کچھ بکر سے مانگ اور کچھ خالد سے پوچھ پاچھ کر انجیل کے کاسہ گدائی کو بھرنا پڑتا ہے۔اب یہ عجیب مذہب ہے جو نہ تو اپنا دعویٰ پیش کرتا ہے اور نہ اس پر کوئی دلیل لاتا ہے بلکہ ایک موم کی ناک ہے کہ پجاریوں نے جدھر چاہا موڑ دی۔مسیحی لوگ بتائیں کہ انجیل نے ان پر کیا احسان کیا؟ یہ تو انجیل پر مسیحیوں کا احسان ہوا کہ خواہ بھیک مانگ کر ہی سہی مگر بہر حال انہوں نے انجیل کو ذلت سے بچایا اور اس کے کاسہ میں اپنی طرف سے دعوئی اور دلائل ڈال کر خانہ پری کر دی۔لاحول ولاقوۃ الا باللہ۔آریوں کا بھی یہی حال ہے۔مثلاً اُن کا سب سے بڑا مسئلہ قدامت روح و مادہ کا مسئلہ ہے مگر وید سے دعوئی مانگا جاوے تو ندارد۔چاروں ویدوں کے ورق چاٹ کر آخر صرف ایک منتر پیش کرتے ہیں جس میں اُن کے زعم میں مجاز اور استعارہ کے طور پر قدامت روح و مادہ کا دعوی بیان 165