تبلیغِ ہدایت — Page 164
ہے کہ جو شخص اپنے مذہب کے متعلق کوئی دعوی کرے تو اس کا فرض ہے کہ پہلے اس دعوے کو اپنی مذہبی کتاب سے ثابت کر لے اور پھر اس پر اپنی ہی کتاب سے دلیل لائے۔مثلاً ایک عیسائی کہتا ہے کہ خدا تین ہیں مگر اس کا یہ دعوی ہرگز قابل التفات نہ ہو گا جب تک کہ وہ اِس دعوے کو انجیل سے ثابت نہ کر دکھائے۔یعنی اس کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ انجیل میں فی الواقعہ یہ دعویٰ موجود ہے کہ خدا تین ہیں اور پھر اس کے بعد اس کو انجیل سے ہی اس دعویٰ کی دلیل لانی ہوگی۔اگر وہ انجیل سے یہ دعوی ثابت نہ کر سکے گا تو یہ ثابت ہو جائے گا کہ یہ عقیدہ انجیل کا عقیدہ نہیں ہے اس صورت میں وہ مسیحیت کی طرف سے پیش نہیں کیا جاسکے گا بلکہ وہ زید یا بکر یا خالد کا ذاتی عقیدہ سمجھا جائے گا جو اس نے انجیل کی طرف منسوب کر کے پیش کر دیا ہے لیکن چونکہ اصل انجیل میں تثلیث کا کوئی ثبوت موجود نہیں اس لئے بس اسی ایک نکتہ سے بحث کا خاتمہ ہو جائے گا کیونکہ بحث مسیحیت سے تھی نہ کہ زید یا بکر کے معتقدات سے۔ظاہر ہے کہ وہ کتاب کسی توجہ کی مستحق نہیں سمجھی جاسکتی جو اپنے مذہب کے اصولی عقائد کے متعلق خالی دعوی پیش کرنے سے بھی محروم ہو اور جس کی مجر" د دعوے کے لئے بھی زید بکر وغیرہ کے منہ کی طرف دیکھنا پڑے اور اگر وہ دعوی تو پیش کر دے لیکن دلیل پیش نہ کر سکے یعنی دعوئی تو اس میں موجود ہومگر دلیل نہ ہو بلکہ دلیل کے لئے اسے پھر زید بکر کا احسان مند ہونا پڑے تو یہ بھی اس کتاب اور اس مذہب کے بطلان کی ایک یقینی دلیل ہوگی۔کیونکہ وہ مذہب جو دلائل کے لئے دوسروں کا محتاج ہو اور صرف دعویٰ کر دینا ہی جانتا ہو اور دلیل کے وقت خاموش رہ جاتا ہو وہ خدا کی طرف سے نہیں سمجھا جا سکتا۔غرض دونوں طرح اس مذہب کی موت ہے۔ہم مانتے ہیں کہ بعض تائیدی دلیلیں بیرونی بھی ہو سکتی ہیں اور اس میں کوئی حرج نہیں کہ بعض دلیلیں بیرونی ہوں لیکن کسی کتاب کا دلائل سے قطعی طور پر خالی ہونا ایک خطرناک کمزوری ہے جس کی موجودگی میں کوئی ایسا مذہب قابل التفات نہیں سمجھا جاسکتا۔اب دیکھو کہ یہ اصول کیسا پختہ اور کیسا پکا ہے مگر اسے مان کر اسلام کے سوا دوسرے مذاہب کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔مثلاً عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ خدا تین ہیں اور یہ کہ مسیح خدا ہے اور یہ کہ کفارہ کا عقیدہ حق ہے اب تلاش کرو تو انجیل میں اس عقیدہ کی دلیل ملنے کا تو کیا ذکر مطلق 164