تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 166 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 166

ہوا ہے اب دیکھو یہ کیسا مذہب ہے کہ بھاری بھاری چار کتابیں موجود ہیں جو غالباً ایک کمزور آریہ اٹھا بھی نہ سکے مگر دلیل تو الگ رہی مذہب کے اصل الاصل کا دعویٰ تک ندارد ہے اور اگر کچھ ہے تو چاروں ویدوں میں صرف ایک منتر ہے جس کے متعلق خود آریہ صاحبان بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس سے صرف مجاز کے طور پر اس عقیدہ کا استنباط ہوتا ہے۔کسی نے خوب کہا ہے بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا ایسے ضروری اور اہم اصول کے متعلق تو وید کا فرض تھا کہ کھلے کھلے اور واضح اور غیر تاویل طلب الفاظ میں اپنا عقیدہ بیان کرتا اور پھر جابجا اُسے دہراتا تا شک وشبہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رہتی۔مگر ایسا نہیں کیا گیا۔اس لئے یہ قومی شبہ پیدا ہوتا ہے کہ قدامت روح و مادہ کا عقیدہ وید کا عقیدہ ہی نہیں ہے بلکہ آج کل کے آریہ صاحبان کا من گھڑت عقیدہ ہے جو وید کی طرف ناحق منسوب کر دیا گیا ہے۔کیونکہ مدعی شست و گواہ چست والا معاملہ ہے۔پھر دلائل کو لیں تو اُن کا بھی یہی حال ہے کہ وید صاحب تو بت کی طرح خاموش ہیں مگر چیلوں نے آسمان سر پر اُٹھا رکھا ہے اب ظاہر ہے کہ جس کتاب کا اپنے مذہب کے اصل الاصول کے متعلق بھی یہ حال ہے کہ نہ دعوی یقینی طور پر بیان ہوا ہے اور نہ دلیل کا کہیں پتہ چلتا ہے بلکہ دونوں کے لئے اسے دوسرے دور کی گدائی کرنی پڑتی ہے وہ ہمیں کیا راہ دکھا سکتی ہے؟ وہ تو آپ اندھوں کی طرح اس بات کی محتاج ہے کہ کوئی دوسرا شخص اسے راہ دکھائے۔حضرت مرزا صاحب خوب فرماتے ہیں مردہ سے کب اُمید کہ وہ زندہ کر سکے اُس سے تو خود محال کہ رہ بھی گزر سکے در اصل بات یہ ہے اور غور کرو تو یہ ایک نہایت پختہ بات ہے کہ چونکہ ان سب مذاہب کی ابتداء حق اور راستی پر تھی اور موجودہ غلط اور فاسد خیالات جو سراسر مشر کا نہ ہیں بعد کی ملاوٹیں ہیں اور پر اور آہستہ آہستہ باہر سے داخل ہو کر دین و مذہب کا حصہ بن گئی ہیں۔اس لئے مذہب کی اصل کتب 166