تبلیغِ ہدایت — Page 156
اسے مانتے چلے جائیں گویا وہ مستقل طور پر دنیا میں قائم ہو جائے جب تک کہ اس کا ابتداء حق و راستی پر مبنی نہ ہو۔مگر حباب کی طرح اٹھ کر بیٹھ جانا یا ایک دو تین نسل تک چل کر مفقود یا کالمفقود ہو جانا راستی کی علامت نہیں ہے۔اسی لئے ہم احمدی لوگ ہندوؤں کے مہاراج کرشن علیہ السلام اور رامچندر جی مہاراج اور بدھ مذہب والوں کے گوتم بدھ اور پارسیوں کے زرتشت اور اہل چین کے کنفیوشس وغیرہ علیہم الرحمہ کے صدق اور راستی کے مُقر ہیں اور ان کو کمال عزت اور ادب کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اسی طرح بابا نانک صاحب علیہ الرحمہ کو ایک با کمال ولی اللہ سمجھتے ہیں اور حضرت مرز اصاحب نے ان سب کی عزت ہمارے دلوں میں قائم کر دی ہے۔بلکہ حضرت مرزا صاحب نے جہاں اور دعوے کئے وہاں آپ کا یہ بھی ایک دعوی تھا کہ میں مثیل کرشن علیہ السلام بھی ہوں۔(دیکھو لیکچر سیالکوٹ) اور آپ کو ایک دفعہ یہ الہام بھی ہوا تھا کہ : ”اے رو دھر گئو پال تیری مہما گیتا میں بھی لکھی ہے“۔یعنی ”اے بدی کے مٹانے والے اور نیکی کو قائم کرنے والے تیری تعریف اور تیری آمد کا وعدہ گیتا میں بھی لکھا ہے“۔جو ہندوؤں کی ایک مذہبی کتاب ہے۔بر ہمو سماج سے مقابلہ چوتھا مذہب جس کے ساتھ حضرت مرزا صاحب کا مقابلہ ہوا وہ بر ہمو سماج کا مذہب ہے یہ لوگ گورسماً ہندوؤں کے اندر شامل ہیں مگر ان کے معتقدات باقی ہندو فرقوں سے بالکل مختلف ہیں اور یہ لوگ بعض خیالات اور معتقدات میں مسلمانوں کے جدید فرقہ نیچریہ سے مشابہ ہیں۔یعنی جس طرح نیچری لوگ الہام اور قبولیت دعا اور خوارق کے منکر ہیں۔یعنی انکی ایسی تاویل کرتے ہیں کہ اصل مسئلہ کا ہی صفایا ہو جاتا ہے اسی طرح یہ لوگ بھی سلسلہ رسل اور الہام اور دُعا وغیرہ کے منکر ہیں اور اپنے مذہب کی بنیاد صرف عقل پر رکھتے ہیں یہ لوگ خدا کے تو ضرور قائل ہیں، لیکن الہام اور سلسلۂ رسالت کے سخت منکر ہیں ہاں دوسرے مذاہب کے بزرگوں کو عمو ما برا نہیں کہتے بلکہ علمی طور 156