تبلیغِ ہدایت — Page 155
اسلامی رنگ میں رنگین نظر آتے ہیں۔سیر وہ دلائل ہیں جن سے آپ نے بابا صاحب کا اسلام ثابت کیا اور ہر عقلمند سوچ سکتا ہے کہ اگر یہ باتیں سچی ثابت ہو جائیں تو پھر واقعی بابا صاحب کے اسلام میں قطعاً کوئی شک نہیں رہتا اور جب بابا صاحب کا اسلام ثابت ہو گیا۔یعنی یہ ثابت ہو گیا کہ وہ ایک سچے مسلمان ولی تھے تو پھر سکھ مذہب کا جو حال ہوتا ہے وہ ظاہر ہے۔گویا اسی ایک دلیل سے سکھ مذہب کا قلعہ فتح ہو جاتا ہے اور آپ نے یہ ساری باتیں سکھوں کی مقدس کتاب گرنتھ صاحب اور جنم ساکھی اور پھر اس مذہب کی تاریخ اور پھر واقعات سے ثابت کیں اور نہایت مدلل طور پر ایک اور ایک دو کی طرح بابا صاحب کا مسلمان ہونا ثابت کر دیا۔(دیکھوست بچن اور چشمہ معرفت و غیره نیز دیکھو آپ کے مرید شیخ محمد یوسف ایڈیٹر نور کی تصنیفات بابا نانک کی سوانح عمری اور بابا صاحب کا مذہب وغیرہ ) یہ ایک عجیب بات ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے غیر مذاہب پر جتنی بھی ضر میں لگائی ہیں وہ قریباً سب کی سب اصولی ہیں جن کے ثابت ہونے کے بعد ان مذاہب کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔مثلاً عیسائیوں کے متعلق تاریخی طور پر ثابت کر دیا کہ مسیح" صلیب پر نہیں مرے بلکہ بعد میں دوسرے انسانوں کی طرح فوت ہو گئے اور اُن کی قبر کشمیر میں موجود ہے۔آریوں کے متعلق یہ ثابت کر دیا کہ ان کے جتنے اصولی عقائد ہیں وہ سب ایسے ہیں جن سے خدا کی ذات بابرکات پر خطرناک حملہ ہوتا ہے اور انسان کا وہ فطری تعلق جو اُسے اپنے خالق کے ساتھ ہے کمزور ہوکر مردہ ہو جاتا ہے اور آریوں کے خود دوسرے معتقدات اُن کے ان عقائد کو باطل ثابت کر رہے ہیں۔سکھوں کے متعلق یہ ثابت کر دیا کہ اُن کے سلسلہ کا بانی ایک مسلمان ولی تھا۔بعد میں جو اس جماعت کی حالت بدل گئی یہ کچھ تو انقلابات زمانہ کی وجہ سے ہے اور کچھ خود مسلمانوں کی غفلت کی وجہ سے ہے۔دراصل آپ کا یہ اصول تھا اور یہ بات بہت یاد رکھنے کے قابل ہے کہ کوئی مذہبی سلسلہ مستقل طور پر دنیا میں فروغ نہیں پاتا ایسا کہ وہ پختہ طور پر دنیا میں جڑ پکڑ جاوے یعنی لاکھوں لوگ اس پر ایمان لے آویں اور وہ قبولیت عامہ اور رجوع عام کا جاذب ہو جائے اور لوگ نسلاً بعد نسل 155