تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 157 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 157

پر عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں یہ مذہب چنداں تبلیغی مذہب نہیں۔یعنی یہ لوگ آریوں اور عیسائیوں کی طرح بحث مباحثہ کی طرف زیادہ توجہ نہیں کرتے صرف علمی رنگ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں اور مذہبی جوش و خروش بھی ان میں نہیں پایا جاتا اسی لئے ان کا حضرت مرزا صاحب کے ساتھ کوئی باقاعدہ روحانی مقابلہ نہیں ہوا۔ہاں بیشک یہ لوگ بھی اس عام چینج میں مخاطب تھے جو حضرت مرزا صاحب نے غیر مذاہب والوں کو دیا تھا مگر ان کی طرف سے کوئی شخص با قاعدہ سامنے نہیں آیا۔نقل اور عقل کے طریق پر بھی ان کے ساتھ حضرت مرزا صاحب کا کوئی باقاعدہ مناظرہ نہیں ہوا مگر خود حضرت مرزا صاحب نے ان کی طرف کافی توجہ فرمائی ہے اور اپنی متعدد کتب میں ان کے عقائد کا رڈ کیا ہے۔خصوصاً براہین احمدیہ حصہ سوم و چهارم زیادہ تر برہمو سماج ہی کے معتقدات کے رد میں ہیں۔ان کے علاوہ ” آئینہ کمالات اسلام“ اور ” برکات الدعا“ اور براہین احمدیہ حصہ پنجم اور مکتوبات میں بھی ان کا کافی رڈ موجود ہے۔حضرت مرزا صاحب نے بار بارلکھا کہ خدا پر ایمان کا دعویٰ اور پھر الہام اور دُعا اور سلسلۂ رسالت کا انکار دو متضاد خیال ہیں۔مجرہ و عقل انسان کو خدا کے متعلق اس مرتبہ سے آگے ہرگز نہیں لے جاسکتی کہ کوئی خدا ہونا چاہئے۔یعنی عقل کا کام زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ علمی طور پر یہ ثابت ہو جائے کہ کوئی خدا ہونا چاہئے لیکن ” ہونا چاہئے“ کا مقام ہرگز قابل اطمینان نہیں بلکہ حق یہ ہے کہ خدا کے متعلق اس حد تک کا ایمان کوئی ایمان ہی نہیں اور نہ یہ نام نہاد ایمان ایک عاشق صادق اور جو یائے حق کی فطری پیاس کو بجھا سکتا ہے بلکہ بعض اوقات تو وہ خشک فلسفیوں کی طرح دہریت تک پہنچا دیتا ہے اصل ایمان یہ ہے کہ انسان خدا کے متعلق ” ہونا چاہئے“ کے شکی اور پر خطر مقام سے نکل کر ” ہے کے یقینی اور محفوظ مقام تک پہنچ جاوے اور یہ مجتز د عقل کا کام نہیں ہے کیونکہ خدا کی ہستی وراء الوراء ہے مجر د عقل اس تک ہرگز نہیں پہنچا سکتی۔وہ صرف دُور سے اس کی طرف اشارہ کر سکتی ہے۔پس ضرور ہے کہ کوئی ایسا طریق ہو جو انسان کو خدا تک پہنچا دے اور وہ یہی ہے کہ خدا خود اپنے الہام سے اور ارسال رسل کے ذریعہ اپنے بندوں کی طرف آئے اور اپنی ہستی کو محسوس و مشہود کرائے تا ایمان صرف اس حد تک نہ 157