تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 150 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 150

۲۲ / دسمبر ۱۹۰۶) ”ہم ان کی چالاکیوں کو طشت از بام کریں گے اور ہمیں اُمید بھی ہے کہ ہم اپنے ارادہ میں ضرور کامیاب ہوں گے۔مرزامکار جھوٹ بولنے والا ہے اور مرزا کی جماعت کے لوگ بدچلن اور بدمعاش ہیں۔(شجھ چنتک ۲۲ دسمبر ۱۹۰۶ء) ہم نے پندرہ سال تک متواتر پہلو بہ پہلو ایک ہی قصبہ میں ان کے ساتھ رہ کر ان کے حال پر غور کی، تو اتنی غور کے بعد ہمیں یہی معلوم ہوا کہ یہ شخص در حقیقت مکار ، خود غرض عشرت پسند اور بد زبان وغیرہ وغیرہ ہے۔نشان تو ہم نے اس مدت تک کوئی نہیں دیکھا۔البتہ یہ دیکھا ہے کہ یہ شخص ہر روز جھوٹے الہام بنا تا ہے اور ایک لاثانی بیوقوف ہے۔( شبھ چشک یکم مارچ ۱۹۰۷ ء ) غرض ہر ایک پر چہ ان کا گالیوں سے بھرا ہوا نکلتا تھا۔حضرت مرزا صاحب آریہ ورت کے ان مہذب سپوتوں کی گالیاں تو سننے کے عادی تھے ہی یہ بھی سنتے رہتے اور خدا خود کوئی فیصلہ فرما تا بلکہ آپ کو زیادہ قلق اس بات کا ہوا کہ یہ لوگ قادیان میں رہتے ہیں اور ہمسائیگت کا دعوی رکھتے ہیں جو بظاہر ہے بھی درست تو اب اگر ان کی طرف سے کوئی بات باہر والوں کے پاس جائے گی تو کمزور طبع کے لوگ ضرور شکوک و شبہات میں مبتلا ہوں گے اور خواہ نخواہ نا واقف لوگوں کے لیے قبول حق کے رستہ میں ایک ٹھو کر پیدا ہوگی۔اس پر آپ نے شروع ۱۹۰۷ ء میں قادیان کے آریہ اور ہم کے نام سے ایک رسالہ تصنیف فرمایا اور اس میں ان لوگوں کو خدا کا خوف دلایا اور لکھا کہ لیکھرام کا نشان تمہارے لئے گذر چکا ہے اب بھی اگر تم ان افتراؤں سے باز نہ آئے تو خدا تمہارے اندر کوئی اور نشان ظاہر کرے گا۔چنانچہ آپ نے قادیان کے آریوں کے متعلق لکھا سوت لیکھو بڑی کرامت ہے پر سمجھتے نہیں یہ شامت ہے میرے مالک تو ان کو خود سمجھا آسماں سے پھر اک نشاں دکھلا ( قادیان کے آریہ اور ہم ٹائٹل پہنچ صفحہ اندرونی ) پھر اسی کتاب کے صفحہ ۶۱ پر لکھا 150