تبلیغِ ہدایت — Page 151
دین خدا کے آگے کچھ بن نہ آئی آخر سب گالیوں پر اترے دل میں اُٹھا یہی ہے شرم و حیا نہیں ہے آنکھوں میں ان کی ہرگز وہ بڑھ چکے ہیں حد سے اب انتہا یہی ہے ہم نے ہے جس کو مانا قادر ہے وہ تو انا اس نے ہے کچھ دکھانا اس سے رجا یہی ہے اے آریو یہ کیا ہے کیوں دل بگڑ گیا ہے ان شوخیوں کو چھوڑ و راہِ حیا یہی ہے مجھ کو ہو کیوں ستاتے سو افتراء بناتے بہتر تھا باز آتے دُور از بلا یہی ہے جس کی دُعا سے آخر لیکھو مرا تھا کٹکر ماتم پڑا تھا گھر گھر وہ میرزا یہی ہے اچھا نہیں ستانا پاکوں کا دل دُکھانا گستاخ ہوتے جانا اس کی جزا یہی ہے پھر انہی دنوں کی بات ہے کہ ایک دفعہ ہمارے مکرم دوست شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم قادیان کے لوکل پوسٹ آفس میں بیٹھے تھے اور ان کے پاس ان تین آریوں میں سے اچھر چند بھی بیٹھا تھا اور ڈاک خانہ کے سب پوسٹ ماسٹر بابو اللہ دیتا صاحب بھی وہیں موجود تھے اس وقت باتوں باتوں میں شیخ صاحب موصوف نے اچھر چند سے کہا کہ حضرت مرزا صاحب کو خدا نے الہام کیا ہے کہ حضرت مرزا صاحب بلکہ جو لوگ بھی آپ کے مکان میں رہیں گے۔طاعون سے قطعی محفوظ رہیں گے اور یہ ایک خدا کا نشان ہے جو تم لوگوں پر حجت ہے۔اس پر بد بخت اچھر چند بولا۔یہ بھی کوئی نشان ہے؟ میں کہتا ہوں کہ میں بھی طاعون سے نہیں مرونگا“۔اس پر شیخ صاحب نے ایمانی غیرت سے جوش میں آکر اُس سے کہا کہ اب تم ضرور طاعون سے ہی ہلاک ہو گے۔(حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۵۴ تمہ۔نیز با بو اللہ دتا صاحب اب بھی زندہ موجود ہیں اور ہمارے مخالفین میں سے ہیں ان سے حلفیہ دریافت کرد ) اب دیکھو خدا کی قدرت نمائی کیا جلوہ دکھاتی ہے۔رسالہ قادیان کے آریہ اور ہم کی اشاعت کے چند دن بعد قادیان میں طاعون آیا اور خدا کے قہری طمانچہ نے چند دن کے اندر اندر ان تینوں کا کام تمام کر دیا اور ان کی بلا اُن کے اہل و عیال پر بھی پڑی اور بعض کا تو سارا گھر کا گھر صاف ہو گیا۔اور مسٹر ا چھر چند جو حضرت مرزا صاحب کی طرح طاعون سے محفوظ رہنے کا دعویٰ کرتے تھے اپنے اس دعوئی کے چند دن بعد ہی طاعون کا 151