تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 149 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 149

میں صرف پندرہ دن باقی تھے تو مرزا نظام الدین کی لڑکی جو کہ امام الدین کی بردارزادی تھی 25 سال کی عمر میں پندرہ ماہ کا لڑکا چھوڑ کر اس جہانِ فانی سے گذر گئی۔اور اس موت سے اس خاندان کو سخت صدمہ پہنچا۔گویا یہی ایک واقعہ ایک طرف مرزا نظام الدین اور مرزا امام الدین صاحبان کے لئے اور دوسری طرف قادیان کے ان ہندوؤں کے لئے نشان قرار پا گیا مگر جب آنکھیں بند ہوں تو سورج کی کرنیں کون دیکھے؟ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ ( سورة قمر ع (۱) یعنی کفار جب کوئی نشان پورا ہوتا دیکھتے ہیں تو مانتے نہیں بلکہ منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو کوئی فریب اور مکر معلوم ہوتا ہے۔قادیان والوں نے بھی یہ نشان دیکھا مگر مگر اور فریب کہہ کر منہ دوسری طرف پھیر لیا۔بلکہ جوں جوں وقت گذرتا گیا ابو جہل اور اس کے رفقاء کی طرح مخالفت میں ترقی کرتے گئے۔جب لیکھرام قتل ہو گیا تو دوسرے آریوں کی طرح قادیان کے آریوں کا پارہ حرارت بھی بہت چڑھ گیا۔چنانچہ حضرت مرزا صاحب کی زندگی کے آخری چند سالوں میں انہوں نے قادیان سے ایک اخبار نکالنا شروع کیا اور اُس کا نام ”شجھ چتک“ رکھا۔یہ اخبار آریوں کی تہذیب کا پورا پورانمونہ تھا کیونکہ جھوٹ، افتراء بدزبانی اور سخت کلامی اس کا اولین اصول تھا۔اس اخبار کے ایڈیٹر اور منتظم تین آدمی تھے یعنی سو مراج، اچھر چند اور بھگت رام اور یہ تینوں نہایت درجہ موذی اور ظالم تھے۔ان کی شوخی اور بد زبانی کا کچھ نمونہ چاہو تو درج ذیل ہے۔ملاحظہ ہو :- ی شخص ( یعنی حضرت مرزا صاحب ) خود پرست ہے۔نفس پرست ہے۔فاسق ہے۔فاجر ہے۔اس واسطے گندی اور نا پاک خوا ہیں اس کو آتی ہیں۔شجھ چک مورخہ ۱/۲۲ پریل ۱۹۰۶ء) قادیانی مسیح کے الہاموں اور اس کی پیشگوئیوں کی اصلیت طشت از بام کرنے کا ذمہ اٹھانے کا ایک ہی پر چہ شجھ چتک ہے۔مرزا قادیانی بداخلاق ، شہرت کا خواہاں، شکم پرور ہے“۔( شبھ چنک ۱۵ رمئی ۱۹۰۶ء) کمبخت کمانے سے عاررکھنے والا۔مکر اور فریب اور جھوٹ میں مشاق“۔( شبھ چنتک 149