تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 3 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 3

وَلَكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِينُ (احزاب ع ۵) نیز فرماتا ہے:- اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا۔(سورہ مائدہ غ) یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے ایسے رسول ہیں جن پر تمام کمالات رسالت ختم ہیں اور اسی لئے ہم نے آج تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی ہے اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کیا ہے۔اور چونکہ قرآن کریم کے ذریعہ خدا کی تعلیم مکمل ہو چکی اور اس کے بعد کوئی اور شریعت نہیں تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اسکے متعلق فرمایا : - إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَانَّا لَهُ لَحَفِظُونَ (سورة الحجرعُ) یعنی ”بیشک ہمیں نے قرآن اُتارا ہے اور یقینا ہمیں اس کی حفاظت کرینگے۔یہ حفاظت کا وعدہ کسی اور خدائی کتاب کے ساتھ نہیں ہوا جس کی وجہ یہ نہیں کہ اور کتا بیں نعوذ باللہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ تھیں بلکہ جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے قرآن شریف سے پہلے جس قدر کتا بیں نازل ہوئیں وہ چونکہ قیو دزمانی و مکانی کیساتھ مقید تھیں یعنی صرف خاص اقوام اور خاص زمانوں کی ضروریات پوری کرنے والی تھیں اور ساری دنیا اور سارے زمانوں کے واسطے نہ تھیں اور بالآخر اُن کا دور ختم ہو جانے والا تھا اس لئے اُن کے ساتھ ایسے وعدہ کی ضرورت نہیں تھی لیکن قرآن شریف کی حفاظت ضروری تھی۔کیونکہ وہ تمام اقوامِ عالم اور تمام زمانوں کی ضرورت پوری کرنے والا تھا اور اس کے اندر ایسے خزانے مخفی تھے جو مختلف زمانوں میں ظاہر ہونے والے تھے اس لئے ضروری تھا کہ وہ ہمیشہ کے لئے اصلی صورت میں محفوظ رکھا جاتا۔یہ حفاظت دو طرح سے ہوئی۔اول لفظی حفاظت۔دوسرے معنوی حفاظت اور یہی حفاظت کے دو پہلو ہیں۔یعنی ایک تو حفاظت کا یہ پہلو ہے کہ قرآن شریف کے الفاظ کی حفاظت ہو۔یعنی جس صورت میں کہ اُن کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول ہوا ہے اسی صورت میں وہ 3