تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 4 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 4

پورے کے پورے بغیر کسی تبدیلی کے محفوظ رہیں۔اور دوسرا حفاظت کا پہلو یہ ہے کہ قرآن شریف کے صحیح معانی دنیا میں موجود ہیں اور قرآنی تعلیمات کی روح مفقود نہ ہونے پائے۔قرآن شریف کو ان دونوں قسموں کی حفاظت حاصل ہوئی ہے، لیکن باقی تمام مذاہب اس حفاظت سے محروم رہے ہیں یعنی نہ تو کتب سابقہ کے الفاظ ہی محفوظ رہے اور نہ ان کے صحیح معانی کو قائم اور ان کی تعلیمات کی روح کو زندہ رکھنے کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مستقل انتظام ہوا۔کیونکہ وہ اپنا کام پورا کر چکے تھے اور اب ان کی ضرورت نہ تھی۔پس وہ مر گئے اور سوائے نام کے یا ایک بدلے ہوئے ڈھانچے کے انکا کچھ باقی نہ رہا اور اس باغ کی طرح ان کا حال ہو گیا جس کے مالک نے اس کے درختوں کی عمر ختم ہو جانے کی وجہ سے اس کی خبر گیری چھوڑ دی ہو اور ایک نیا باغ لگا لیا ہو۔مگر اسلام کا یہ حال نہیں وہ ایک زندہ مذہب ہے اور ہمیشہ زندہ رہنے کے واسطے قائم کیا گیا ہے پس اس کی لفظی حفاظت بھی کی گئی اور معنوی حفاظت بھی۔لفظی حفاظت تو اس طرح ہوئی کہ نزول کے وقت وہ ساتھ ساتھ تحریر میں لایا گیا اور بہت سے لوگوں کو حرف بحرف زبانی یاد کرا دیا گیا اور اس کے کئی نسخے لکھ کر محفوظ کر لئے گئے اور اسلامی حکومت کی طرف سے اس کی خاص حفاظت کی گئی اور پھر جلد ہی لاکھوں نسخوں میں نقل ہو کر وہ تمام دنیا میں پھیل گیا اور شائع ہو گیا اور آج بھی دنیا میں لاکھوں انسان ایسے ہو نگے جو قرآن کے حافظ ہیں۔غرض اس کی ایسی حفاظت ہوئی کہ خود مخالفین اسلام بھی قبول کرتے ہیں کہ واقعی موجودہ قرآن بغیر کسی قسم کی تبدیلی کے وہی قرآن ہے جو آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلےمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا تھا اور تمام دنیا اس کی لفظی حفاظت کی قائل ہے۔( مثلاً دیکھود دیباچہ لائف آف محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) مصنفہ سرولیم میور)۔باقی رہی معنوی حفاظت۔سو اس کے واسطے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ انتظام ہوا کہ ہر زمانہ میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے ہیں جو قر آنی تعلیمات کی روح کو زندہ اور قائم رکھتے رہے ہیں اور جن کے ذریعہ سے اسلام ہمیشہ اس بات سے محفوظ رہا ہے کہ اس کی روح بالکل مردہ ہو جائے اور صرف صورت ہی صورت رہ جائے۔یعنی مغز تو ضائع ہو جائے اور صرف قشر باقی رہ 4