تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 2 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 2

آئے۔اسی لئے ہم تمام ممالک اور تمام اقوام کے رسولوں کی تصدیق کرتے اور ان کو سچا جانتے ہیں چنانچہ جہاں ہم حضرت نوح، حضرت ابراہیم ، حضرت موسی اور حضرت عیسی علیہم السلام پر ایمان لاتے ہیں۔وہاں پارسیوں کے زرتشت، بُدھ مذہب والوں کے گوتم بدھ، چین والوں کے کنفیوشس اور ہندوؤں کے کرشن علیہم السلام کی رسالت کا بھی اقرار کرتے ہیں اور ان کو اسی عزت اور احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں جو ایک نبی کی شایانِ شان ہے۔سلسلۂ رسالت کا معراج مگر یہ سب انبیاء علیہم السلام اور انہی کے زمانہ کے دوسرے انبیاء اس زمانہ کے لئے تھے جب دنیا کی مختلف اقوام ایک دوسرے سے قریباً بے خبر تھیں۔اور ہر ملک دوسرے ممالک سے منقطع تھا اور نسلِ انسانی کی دماغی ترقی بھی اپنی ابتدائی حالت میں تھی لیکن جب وہ وقت قریب آیا کہ تمام دنیا ایک ملک کے حکم میں آنے لگی اور مختلف اقوام میں ایک دوسرے کی طرف حرکت پیدا ہوئی اور نسلِ انسانی ترقی کرتے کرتے اپنی نو جوانی کی عمر کو پہنچنے لگی تو اللہ تعالیٰ نے الگ الگ اقوام اور الگ الگ ممالک کی طرف الگ الگ رسول مبعوث فرمانے کی بجائے ساری دنیا کے واسطے ایک ہی رسول مبعوث فرمایا اور بجائے علیحدہ علیحدہ ایسی تعلیمات نازل فرمانے کے جوصرف وقتی اور قومی ضروریات پوری کرنے والی ہوں تمام زمانوں کے واسطے اور تمام اقوامِ عالم کے لئے ایک ہی کامل و مکمل کتاب نازل فرمائی یہ رسول محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے جو ساتویں صدی عیسوی کے شروع میں ملک عرب میں مبعوث ہوئے اور یہ کتاب قرآن مجید ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی۔قرآنی تعلیم کی لفظی و معنوی حفاظت کی گئی جو اسلام کی زندگی کا ثبوت ہے اس پاک رسول اور اس پاک کتاب کے اندر سلسلۂ رسل اور سلسلہ کتب اپنے انتہائی کمال کو پہنچ گئے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- 2