تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 111 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 111

آتھم،انوارالاسلام، حقیقۃ الوحی وغیرہ) پھر مسائل فقہی میں تو اختلاف کی کوئی حد ہی نہ تھی آپ نے بعض فروعی اختلافات کو قائم رکھا اور اس کو امت کے لئے ایک رحمت قرار دیا اور بعض میں بدلائل صحیح صحیح راہ بتادی۔( دیکھو آپ کی ڈائریاں اور فتاوی احمد یہ وغیرہ) یہ بعض ان اختلافات کی مختصر فہرست ہے جو مسلمانوں میں رونما ہو چکے تھے اور جن کے متعلق حضرت مرزا صاحب نے حکم ہو کر فیصلہ کیا۔اگر اختلافات امت اور اُن پر حضرت مرزا صاحب کا محاکمہ پورے طور پر بیان کیا جاوے تو ایک ضخیم کتاب ہو جاوے اس لئے اس جگہ صرف چند موٹے موٹے اختلافات مثال کے طور پر مختصر بیان کئے گئے ہیں۔اس جگہ اگر کوئی شخص یہ شبہ کرے کہ اختلافات کے متعلق تو تمام علماء اپنی اپنی رائے کا اظہار کرتے ہی آئے ہیں۔حضرت مرزا صاحب نے اس معاملہ میں کیا زیادت کی؟ تو یہ ایک باطل شبہ ہو گا۔کیونکہ رائے کا اظہار کرنا اور بات ہے اور حکم ہو کر کسی بات کا فیصلہ کر دینا بالکل اور بات ہے رائے کا اظہار تو ایک بچہ بھی کر سکتا ہے، مگر حضرت مرزا صاحب نے جس رنگ میں اختلافات امت کا فیصلہ کیا ہے وہ اپنے اندر بعض امتیازی خصوصیات رکھتا ہے جن سے آپ کے حکم ہونے پر زبر دست روشنی پڑتی ہے اور وہ خصوصیات یہ ہیں :- (۱) آپ نے کسی مسئلہ میں کسی پارٹی کا جانب دار ہو کر رائے نہیں دی بلکہ ہمیشہ ایک ثالث یعنی حکم کے طور پر رائے دی ہے۔اس لئے آپ کے فیصلہ جات عصبیت کے زہریلے اثر سے بالکل پاک ہیں اور یہ ایک بڑی بھاری خصوصیت ہے جو شخص آپ کے فیصلہ جات کو دیکھے گا وہ یہ بات محسوس کرنے پر مجبور ہوگا کہ آپ کا ہر فیصلہ ایک منصفانہ اور غیر جانب دارانہ رنگ رکھتا ہے۔(۲) آپ نے صرف رائے کا اظہار نہیں کیا بلکہ عقلی اور نقلی دونوں پہلوؤں سے دلائل کا ایک سورج چڑھا دیا ہے اور متلاشیان حق کے لئے کسی اختلاف کی گنجائش نہیں چھوڑی۔جس بات پر بھی آپ نے قلم اُٹھایا ہے اس کا ہمیشہ کے لئے ایک ایسا فیصلہ کر دیا ہے جو ایک پہاڑ کی طرح اپنی جگہ سے ہلایا نہیں جاسکتا اور کوئی غیر متعصب شخص اس کی قطعیت کا لوہا مانے بغیر نہیں رہ سکتا اور ہر 111