تبلیغِ ہدایت — Page 110
دیکھو’ تقدیر الہی مصنفہ حضرت خلیفۃ السیح الثانی) پھر خلافت راشدہ کے متعلق سنیوں شیعوں کے اختلافات شائع و متعارف ہیں ان میں آپ نے سچا فیصلہ فرمایا۔(دیکھو آپ کی کتاب ستر الخلافہ و حجتہ اللہ وغیرہ اور آپ کے حواری حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کی تصنیف خلافتِ راشدہ)۔پھر قرآن وحدیث کے مرتبہ کے متعلق یعنی ان دونوں میں سے کون دوسرے پر قاضی ہے ایسے خیالات کا اظہار ہوا ہے کہ انہیں سن کر ایک مسلمان کا بدن کانپ اٹھتا ہے۔مسلمانوں کے ایک فرقہ نے قرآن کو پس پشت ڈال دیا تھا اور حدیث کے آگے ایک بت کی طرح گر گئے تھے۔آپ نے ان مسائل پر بڑی بڑی لطیف بخشیں کیں۔اور ایک طرف تو سنت کو حدیث سے الگ ثابت کیا اور دوسری طرف قرآن و سنت و حدیث کا الگ الگ مرتبہ دلائل اور براہین کے ساتھ متعین کیا۔( دیکھوالحق لدھیانہ۔ریویو بر مباحثہ چکڑالوی کشتی نوح وغیرہ) پھر اہل فقہ اور اہل حدیث کے اختلافات اور باہمی کشمکش مشہور ہیں۔آپ نے دلائل دیدے کر طرفین کو ان کی غلطی پر متنبہ کیا اور پھر دونوں کی جو جو خو بیاں تھیں وہ بھی ظاہر فرما ئیں اور افراط اور تفریط کے درمیان میانہ روی کا راستہ قائم کیا۔(دیکھوفتاوی احمد یہ وغیرہ) پھر معجزات کی حقیقت اور منجزات اور کرامات کے فلسفہ کے متعلق نیچریوں اور اہل حدیث اور حنفیوں میں اختلاف کی کوئی حد نہ تھی۔آپ نے اس مسئلہ پر وہ سیر کن بخشیں کیں کہ کسی اختلاف کی گنجائش نہ چھوڑی۔(دیکھو سرمہ چشم آرید، براہین احمدیہ۔چشمہ معرفت۔حقیقۃ الوحی وغیرہ) پھر مسئلہ جہاد ایک نہایت خطرناک صورت اختیار کر گیا تھا جس سے اسلام پر ایک بدنما دھبہ لگتا تھا کہ گویا اسلام مذہب میں جبر کی تعلیم دیتا ہے۔آپ نے روشن دلائل کے ساتھ اسے صاف کیا اور لا اکراہ فی الدین کے اصول کے ماتحت سچی سچی راہ ظاہر فرمائی۔(دیکھور سالہ جہاد، حقیقة المهدی، چشمه معرفت، جنگ مقدس و غیره) پھر انبیاء کا مزعومہ علم غیب اور اس کا فلسفہ با وجود مباحث کا جولانگاہ ہونے کے سخت تاریکی میں پڑا ہوا مسئلہ تھا۔آپ نے تحریر و تقریر سے اس پر گویا ایک سورج چڑھا دیا۔(دیکھو انجام 110