تبلیغِ ہدایت — Page 109
صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صرف شریعت والی نبوت کا دروازہ بند ہوا ہے مگر غیر تشریعی اور ظلی نبوت کا دروازہ بند نہیں ہوا اگر نبوت کے تمام شعبے بند اور منقطع سمجھے جاویں تو اس کے معنے یہ ہونگے کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود امت محمدیہ سے ایک عظیم الشان رحمت اور انعام الہی کے چھینے جانے کا باعث ہوا ہے۔غرض آپ نے نقل و عقل سے اس مسئلہ کا بطلان ثابت کیا۔( دیکھو حضرت مرزا صاحب کی تصانیف ”ایک غلطی کا ازالہ تحفہ گولڑو یہ ونزول مسیح و حقیقۃ الوحی وغیرہ) پھر انبیاء اور رسل کے متعلق یہ خطر ناک اختلاف تھا کہ گویا نعوذ باللہ سب نبی گنہگار ہیں اور سوائے مسیح ناصری کے کوئی نبی معصوم اور مسن شیطان سے پاک نہیں۔آپ نے براہین قویہ سے اس خیال کو غلط ثابت کیا اور بڑے زور دار مضامین سے اس معاملہ میں حقیقت امر کو واضح کیا۔(دیکھو حضرت مرزا صاحب کا مضمون عصمت انبیاء مندرجہ ریویو آف ریلیجنز ونور القرآن وغیرہ) پھر نبوت کے مفہوم کے متعلق یعنی اس امر کے متعلق کہ نبی کیا ہوتا ہے اور مقام نبوت سے کیا مراد ہے نہایت باطل خیالات رائج ہو گئے تھے۔آپ نے ان کو بدلائل صاف کیا۔( دیکھو حقیقۃ الوحی وغیرہ) پھر بعث بعد الموت اور جزاء وسزا اور جنت و دوزخ کی حقیقت کے متعلق عجیب عجیب خیالات پیدا ہو گئے تھے جن کی وجہ سے غیروں کو اسلام پر حملہ کرنے کا بہت موقعہ مل گیا تھا۔جنت و دوزخ کی حقیقت کے متعلق تو ایسے ایسے خیالات کا اظہار کیا گیا تھا کہ بس خدا کی پناہ! آپ نے اس کے متعلق نہایت لطیف اور مدلل مضامین لکھے اور قرآن وحدیث سے اصل حقیقت واضح فرمائی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دشمن بھی جو پہلے معترض تھا ان مضامین پر عش عش کر اٹھا۔( دیکھو اسلامی اصول کی فلاسفی وغیرہ) پھر مسئلہ تقدیر ہمیشہ سے بحث کا جولانگاہ رہا ہے اور اس میں اختلافات کی کوئی حد نہیں رہی آپ نے اسے ایسا صاف کیا کہ اب ایک بچہ بھی اسے سمجھ سکتا ہے۔( یہ مسئلہ آپ کی مختلف کتب میں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بیان ہوا ہے مثلاً دیکھو چشمہ معرفت و جنگ مقدس اور یکجائی بحث کے لئے 109