تبلیغِ ہدایت — Page 1
بسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنَصَلَّىٰ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ سلسلۂ رسالت تمهید مذاہب عالم کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے پتہ لگتا ہے کہ ابتداء سے ہی اللہ تعالیٰ کی یہ سنت چلی آئی ہے کہ وہ ہر ظلمت اور بے دینی کے زمانہ میں اپنی طرف سے کسی پاک شخص کو دنیا کی ہدایت کے لئے مبعوث فرماتا ہے اور اس کے ذریعہ سے لوگوں کی اصلاح کرتا اور تازہ نشانات سے اپنا چہرہ دنیا پر ظاہر کر کے دہریت کی ظلمت سے لوگوں کو باہر نکالتا ہے۔یہ سلسلہ جو سلسلۂ رسالت کہلاتا ہے ابتداء سے لیکر اب تک برابر چلا آیا ہے شروع شروع میں جبکہ دنیا میں مختلف ملکوں اور مختلف قوموں کے اندر باہم میل جول کے سامان موجود نہ تھے یا بہت کم تھے اور ہر ملک دوسرے ملک سے منقطع تھا اور ہر قوم دوسری اقوام سے بے خبر تھی اور گویا ہر ملک اور ہر قوم کا الگ الگ ایک عالم تھا اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی مختلف ممالک اور مختلف اقوام میں الگ الگ رسول آتے تھے۔چنانچہ اللہ تعالی قرآن شریف میں فرماتا ہے:۔وَاِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ۔(سورة فاطرع٣) یعنی " کوئی ایسی قوم نہیں کہ جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بیدار کرنے والا نہ آیا ہو۔چنانچہ جس طرح شام، مصر، عراق وغیرہ میں اللہ تعالیٰ کے رسول آئے اسی طرح ہندوستان، چین، فارس وغیرہ میں بھی اس کے رسول آئے اور دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی