سیدنا بلالؓ

by Other Authors

Page 23 of 29

سیدنا بلالؓ — Page 23

سیدنا بلال 41 اذان کی ابتداء اذان کی ابتداء 42 سیدنا بلال ایک دفعہ پھر گر گیا۔اس نے پھر فال نکالی فال دوبارہ الٹ نکلی تو اس نے اپنا ارادہ ترک کر دیا۔تب اس نے رسول اللہ اور آپ کے ساتھیوں کو آواز دی۔اس آواز پر آپ ٹھہر گئے۔جب سراقہ آپ کے پاس پہنچا تو سارا واقعہ سنایا کہ وہ آپ کو پکڑنے یا قتل کرنے کی نیت سے آیا تھا مگر اب واپس جارہا ہے۔حضور نے اسے صرف اتنا کہا۔سراقہ ! اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا۔جب تمہارے ہاتھوں میں کسری کے کنگن ہوں گئے۔سراقہ حیران ہوا اور کہنے لگا۔کسری بن ہرمزایران کے بادشاہ کے؟ حضور نے فرمایا ہاں! سراقہ کو کچھ سمجھ نہ آئی اور وہ واپس چلا گیا۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جب ہم نے ایران کو شکست دی تو کسری کے کنگن بھی ہاتھ آئے۔حضرت عمر کو رسول اللہ کی یہ بات یاد آئی تو انہوں نے سراقہ کو بلوایا۔جو مسلمان ہو چکا تھا اور اپنے سامنے کنگن اسے پہنائے۔اس طرح رسول اللہ کی پیشگوئی پوری ہوئی۔ہمیں آپ کے مکہ سے روانہ ہونے کی خبرمل چکی تھی ہم مکہ سے آئے ہوئے مہاجر یثرب کے مسلمانوں کے ساتھ مل کر روز آپ کے استقبال کے لئے میٹرب سے باہر جاتے اور بہت دیر انتظار کرنے کے بعد واپس آتے تھے۔ایک دن ہم انتظار کرتے کرتے اپنے گھروں کو واپس آئے ہی تھے کہ ایک یہودی نے آواز دی تمہیں جس کا انتظار تھا وہ آ رہا ہے۔ہم خوشی سے دیوانے ہو گئے بھاگم بھاگ باہر نکلے میٹرب کے مسلمانوں کی چھوٹی چھوٹی بچیاں بھی ہمارے ساتھ تھیں جو خوشی سے گارہی تھیں:۔طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا مِنْ قَنِيَّاتِ الوداع وَجَبَ الشُّكْرُ عَلَيْنَا مَادَعَى لِلَّهِ دَاع وداع کی گھاٹیوں سے چودھویں کا چاند ہمارے لئے چڑھا ہے اور ہم پر ہمیشہ کے لئے شکر واجب ہو گیا۔کیونکہ خدا کی طرف ایک بلانے والے نے ہمیں بلایا ہے۔اور یہ حقیقت بھی ہے کہ ہماری اندھیری راتوں میں رسول اللہ کا آنا چودھویں کے چاند کے چڑھنے سے بھی زیادہ خوشی کی بات تھی۔خدا کا نبی خدا کا پیارا ہمارا محبوب ہمارا محمد خیریت سے یثرب پہنچ گیا تھا۔وہ اپنے شہر پہنچ گیا تھا وہ شہر جس کی قسمت میں خدا کے نبی کی پناہ گاہ ہونا لکھا تھا۔اس دن کے بعد سے ہم اسے یثرب کی بجائے مدینۃ النبی صم، یعنی نبی کا شہر کہنے لگے۔اور اب تو شاید بہت سے لوگوں کو علم ہی نہ ہو کہ کبھی اس شہر کو میٹرب کہا جاتا تھا۔اب ہم آزاد تھے۔مسلمان آزاد تھے۔اپنے اللہ کی مرضی پر چلنے کے لئے۔اپنی زندگی اسلام کے مطابق گزار نے کے لئے اور اللہ کا پیغام دوسروں تک پہنچانے کے لئے۔مواخات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ آمد کے بعد سب سے پہلے ہجرت کر کے آنے والے لٹے پٹے مہاجرین کو مدینہ کے رہنے والے انصار کے سپرد کیا اور ایک ایک مہاجر کو ایک ایک انصار کا بھائی بنادیا۔(اسے عرف عام میں مواخات کہا جاتا ہے ) رسول اللہ نے مجھے ابـو رویــحــه خشعمی کا بھائی بنایا اور ہمارا یہ تعلق جو خدا کے نبی نے باندھا تھا ہمیشہ قائم رہا اور ہم دونوں ایک دوسرے کو سگے بھائیوں سے بھی بڑھ کر چاہتے اور پیار کرتے تھے۔اور جس حد تک ممکن ہوتا ایک دوسرے کے کام آنے کی کوشش کرتے تھے۔میں جو مکہ کا ایک بے قیمت غلام تھا، جسے کوئی اپنے پاس بٹھانا بھی گوارا نہیں کرتا تھا۔آج اسلام کی برکت سے ایک معزز برادری کا فرد بن چکا تھا۔