سیدنا بلالؓ — Page 22
سیدنا بلال 39 آنحضور کی مدینہ روانگی مواخات آنحضور ﷺ کی مدینہ روانگی فیصلہ یہ ہوا کہ رسول اللہ اور ابوبکر علیحدہ علیحدہ نکلیں گے اور مکہ کے باہر ا کٹھے ہو جائیں گے۔وہاں سے رسول اللہ اپنے گھر آئے اور کافروں کی امانتیں آپ کے پاس تھیں وہ علی کو دیں، تا کہ وہ انہیں واپس پہنچاسکیں۔اتنی دیر میں رات ہوگئی۔آپ نے علی کو اپنے بستر پرلٹا دیا اور اپنی چادران پر ڈال دی۔باہر کفار نے گھر کو گھیرے میں لے لیا تھا تا کہ آپ کو قتل کر سکیں لیکن ہمارا خدا تو بہت طاقتور خدا ہے۔آپ رات کے وقت باہر نکلے اور ان کے جانے کا علم ہی نہ ہوا۔صبح ہوئی تو انہیں پتہ چلا کہ آپ جاچکے ہیں۔انہیں بہت غصہ آیا۔مگر اب کیا ہوسکتا تھا۔آخر ایک سردار نے اعلان کیا کہ جو کوئی محمد کو زندہ یا مردہ لائے گا۔اسے سو اونٹ انعام دیئے جائیں گے۔اس لالچ میں کئی آدمی رسول اللہ کی تلاش میں نکلے۔رسول اللہ ابو بکر کے ساتھ مل کر سیدھے یثرب کی طرف جانے کی بجائے جو شمال کی طرف ہے، جنوب میں غار ثور کی طرف چل پڑے۔رسول اللہ کی تلاش میں نکلنے والوں میں سے ایک میرے جیسا حبشی بھی تھا جو کھوجی کا کام کرتا تھا اور اپنے کام میں اتنا ماہر تھا کہ لوگ کہا کرتے تھے کہ یہ ہوا میں سونگھ کر پرندے کا پتہ لگا لیتا ہے۔باقی پیچھا کرنے والے تو شمال کی طرف گئے یہ بڑا ہوشیار تھا۔یہ کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر جنوب کی طرف روانہ ہوا اور قدموں کے نشان دیکھتا ہو ا غار ثور تک پہنچ گیا۔جہاں رسول اللہ ابوبکر کے ساتھ چھپے ہوئے تھے۔غار کے نام سے یہ نہ سمجھ لینا کہ وہ کوئی بڑی غار تھی۔بس ایک چھوٹی سی جگہ تھی مگر میرے رب کے کام عجیب ہوتے ہیں۔رسول اللہ اور ابو بکر کے غار میں داخل ہوتے ہی ایک مکڑی نے غار کے منہ پر جالا بن دیا اور قریب کے ایک درخت کی ایک شاخ پر جو جھک کر غار کے منہ کے سامنے آئی ہوئی تھی ایک کبوتری نے گھونسلا بنا کر انڈے دے دیئے تھے۔غار پر پہنچ کر کھوجی نے قریش کے سرداروں سے کہا کہ سراغ اس سے آگے نہیں چلتا۔اس لئے یا تو محمد اس 40 سیدنا بلال غار کے اندر ہیں یا آسمان پر چڑھ گئے ہیں۔سردار مکڑی کے جالے کو دیکھ کر کہنے لگے تم عجیب بے وقوف آدمی ہو۔اگر محمد اس کے اندر جاتے تو یہ جالا اور کبوتری کا گھونسلا ٹوٹ نہ جاتے اس لئے محمد اس غار کے اندر نہیں ہو سکتے۔جب باہر یہ بات چیت ہو رہی تھی۔اندرابوبکر رسول اللہ سے کہنے لگے یا رسول اللہ ! اگر باہر کھڑے کا فرذرا جھک کر اپنے پیروں کی طرف بھی دیکھیں تو ہم انہیں نظر آجائیں گے۔رسول اللہ نے ابو بکر کو تسلی دی اور فرمایا ” فکر نہ کرو۔اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ابوبکر نے کہا۔یا رسول اللہ! مجھے اپنی فکر نہیں۔میرا کیا ہے۔میں تو آپ کی وجہ سے فکرمند ہوں۔اس واقعہ کا ذکر خدا نے اپنے پاک کلام قرآن مجید میں بھی کیا ہے۔رسول اللہ ! ابوبکر کے ساتھ تین دن اس غار میں ٹھہرے چوتھی رات وہاں سے نکلے۔اب ایک اور آدمی عبداللہ بھی ساتھ روانہ ہوا۔جس کو ابو بکر نے میٹر ب کا راستہ دکھانے کے لئے ملازم رکھا تھا۔جب چلنے لگے تو رسول اللہ نے مکہ کی بستی پر آخری نظر ڈالی ور کہا۔تو مجھے سب بستیوں سے زیادہ پیاری ہے مگر تیرے رہنے والے مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے۔چونکہ ابھی ڈر تھا کہ لوگ پیچھا کریں گے۔اس لئے آپ نے راستہ بدل کر ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ مدینہ کی طرف سفر شروع کیا۔دو تین دن بعد ابو بکڑ نے دیکھا کہ ایک شخص گھوڑا دوڑا تا ہوا پیچھے پیچھے آ رہا ہے اس آدمی کا نام سراقہ تھا۔یہ بھی سو اونٹوں کے انعام کے لالچ میں آپ کی تلاش میں نکلا تھا۔جب یہ آپ کے قریب پہنچا تو گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور زمین پر گر پڑا۔جلدی سے اٹھا اور عربوں کے طریق کے مطابق تیروں سے فال نکالی فال الٹ نکلی۔مگر سو اونٹ کا لالچ اتنا تھا کہ پھر سوار ہو کر پیچھے چل پڑا۔قریب پہنچا تو دوبارہ گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور گھوڑے کے پیر ریت کے اندر ھنس گئے۔