سیدنا بلالؓ — Page 24
سیدنا بلال 43 اذان کی ابتداء غزوات میں شرکت دیگر غزوات اور فتح مکہ مدینہ ہجرت کے بعد مسلمان اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کرنے کے لئے بالکل آزاد تھے اور اسی مقصد کے لئے حضور اکرم نے مدینہ تشریف لانے کے فوراً بعد ایک مسجد کی تعمیر شروع کی۔جس کے لئے تمام مہاجرین اور انصار نے بڑے جوش و خروش سے کام کیا۔اور کرتے بھی کیوں نہ جب کہ ان کا محبوب آقا خود ان کے ساتھ تعمیر کے کاموں میں مصروف تھا۔میں وہ منظر کیسے بھول سکتا ہوں جب رسول اللہ خود اس مسجد کی تعمیر کے لئے مٹی اٹھا اٹھا کر لاتے تھے۔میں بھی ان کاموں میں شریک تھا اور اپنی ہمت کے مطابق پورے جوش اور جذبے سے یہ کام سرانجام دے رہا تھا۔میں نہیں جانتا تھا کہ یہ مسجد جو آج ہم تعمیر کر رہے ہیں کل اسی میں اللہ تعالیٰ مجھے مؤذن کے طور پر اذان دینے کی سعادت بھی عطا کر دے گا۔چنانچہ جب نماز با جماعت کا آغاز ہوا تو نماز کے لئے لوگوں کو بلانے اور اکٹھا کرنے کے طریقے بھی سوچے جانے لگے۔بعض کا خیال تھا کہ نماز کا وقت ہونے پر آگ جلا کر دھوئیں کے ذریعے سے لوگوں کو خبر کی جائے۔بعض نے کہا کہ جھنڈا بلند کیا جائے اور بعض نے ناقوس بجا کر اطلاع کرنے کا مشورہ دیا۔لیکن بالآ خر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض اصحاب کی رؤیا کے مطابق اذان دینے کے طریق کو پسند فرمایا اور مجھے بلا کر ارشاد فرمایا کہ اذان کے کلمات سیکھ کر نماز کے اوقات میں ان کے ذریعے سے لوگوں کو مسجد کی طرف بلایا کروں۔یہ میری زندگی کی سب سے عظیم سعادت تھی جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی کہ میں مسجد نبوی میں مؤذن کے طور پر مامور کر دیا گیا۔چنانچہ میں اپنا یہ فرض سرانجام دینے لگا۔اللہ تعالیٰ نے کچھ تو فطری طور پر مجھے اونچی اور پر سوز آواز عطا کی تھی اور کچھ درد میری آواز میں اس محبت کی وجہ سے پیدا ہو جاتا تھا جو مجھے اپنے پیارے آقا اور اسلام سے تھی۔یہی وجہ تھی کہ لوگ میری آواز میں 44 سیدنا بلال اذان سننا پسند کرتے تھے۔عورتیں اپنے کام چھوڑ کر اذان سنے لگتیں اور بچے میرے ارد گر دا کٹھے ہو جاتے تھے۔لیکن ان سب باتوں کے باوجود میں جانتا ہوں کہ یہ سب لوگ اللہ کی محبت کی وجہ سے مجھ سے محبت کرتے تھے اور یہ اسلام کا پیغام ہی تھا جس نے مجھے ایسے محبت کرنے والے وجود عطا کر دیئے تھے۔ور نہ میں تو صرف ایک حبشی ہوں جو کل تک معمولی غلام تھا“ (طبقات ابن سعد جز 3 ) اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے مجھے ہجرت کے پہلے سال سے لے کر لا تک با قاعدگی سے اس فرض کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائی اور سوائے شاذ کے اس تواتر کو کبھی نہیں توڑا۔ہاں مدینہ سے میری غیر حاضری کی صورت میں اذان دینے کی ذمہ داری عبداللہ بن ام مکتوم کے سپرد ہوتی تھی۔بعض حالات میں صبح کی نماز کیلئے مدینہ میں دوا زا نہیں بھی ہوتی تھیں مثلا رمضان المبارک میں ایسی صورت میں پہلی اذان میں دیا کرتا تھا جو نماز کے وقت سے کافی پیشتر ہوتی تھی جبکہ دوسری اذان جو نماز کے لئے ہوتی تھی وہ عبداللہ بن ام مکتوم دیا کرتے تھے۔ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ خیبر کی فتح کے بعد اسلامی لشکر آنحضرت کی سر براہی میں مدینہ واپس آ رہا تھا کہ ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا۔حضور نے فرمایا کہ کوئی ایسا بندہ ہے جو صبح کی نماز کے لئے ہمیں جگانے کی ذمہ داری لے۔اس پر میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں جاگ کر یہ ذمہ داری ادا کروں گا اور صبح کی نماز کے لئے سب کو جگادوں گا۔یوں سب لوگ بے فکر ہو کر سو گئے اور میں نے جاگنے کا ارادہ کر کے نفل نماز پڑھنی شروع کردی۔کافی دیر تو نماز میں ہی گزرگئی اور اس کے بعد میں مشرق کی طرف منہ کر کے بیٹھ گیا تا کہ صبح کے آثار دیکھتے ہی سب کو جگادوں۔خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ باوجود سب تدبیروں کے میری بھی آنکھ لگ گئی اور جب صبح لوگوں نے مجھے جگایا تو دن طلوع ہو چکا تھا۔ہم سب نے دن چڑھنے کے بعد نماز فجر ادا کی اور حضور ا کرم