سیدنا بلالؓ — Page 21
سیدنا بلال 37 آنحضور کی مدینہ روانگی آنحضور کی مدینہ روانگی 38 سیدنا بلال رسول اللہ کے ساتھ بہت تھوڑے مسلمان رہ گئے۔ہم جو مدینہ پہنچ کر امن میں آگئے تھے اس بات سے بہت فکر مند رہتے تھے کہ پتہ نہیں رسول اللہ کے ساتھ کفار کیا سلوک کر رہے ہیں۔ہمارا انتظار لمبا ہی ہوتا گیا۔آہستہ آہستہ سارے مسلمان آگئے۔عمر بھی آگئے ، حمزہ بھی، لیکن رسول اللہ، ابو بکر علی اور چند اور مسلمانوں کے ساتھ مکہ میں ہی رہے اور آپ ابھی کس طرح آسکتے تھے۔جب تک خدا تعالیٰ آپ کو آنے کا حکم نہ دیتا۔کیونکہ اللہ کے رسول کوئی کام بھی اس کے حکم کے بغیر نہیں کرتے۔اکثر مسلمانوں کے وہاں سے آجانے کی وجہ سے رسول اللہ کے لئے خطرہ بڑھ گیا تھا۔کیونکہ کافروں کو اب یہ فکر ہوگئی تھی کہ مسلمان مکہ سے باہر جاچکے ہیں اور وہ ڈرتے تھے کہ اسلام کا پیغام عرب کے دوسرے قبیلوں میں پھیلنا شروع ہو جائے گا۔تنگ آ کر انہوں نے سوچا کہ اب کوئی ایسا طریق اختیار کرنا چاہیے کہ یہ قصہ ختم ہی ہو جائے۔آنحضور عالم کی ہجرت مدینہ ﷺ مکہ میں ایک جگہ تھی جس کو دارالندوہ کہتے تھے۔یہاں قوم کے سردار ا کٹھے ہو کر ان باتوں کے متعلق مشورہ کرتے جس کا ساری قوم سے تعلق ہوتا۔اس جگہ سارے قبیلوں کے سردار اکٹھے ہوئے اور آپس میں مشورہ کرنے لگے کسی نے کوئی بات کہی کسی نے کچھ کہا، کسی نے کچھ کسی نے کہا محمد کو قید کر دیتے ہیں۔ایک نے کہا مکہ سے جلا وطن کر دیتے ہیں۔آخر ابو جہل نے مشورہ دیا۔اگر تو تم سارا قصہ ختم کرنا چاہتے ہو تو اس کی ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ محمد کو ہی قتل کر دیا جائے“۔اس پر ایک سردار نے یہ اعتراض کیا کہ اس طرح محمد کے قبیلہ کے لوگ قاتل سے بدلہ لینے کی کوشش کریں گے۔جس پر ابو جہل بولا۔اگر ہر قبیلہ میں سے ایک آدمی چنا جائے اور سارے مل کر محمد کو قتل کر دیں تو محمد کے قبیلہ کو بھی جرات نہیں ہوگی کہ سارے قبیلوں کے ساتھ لڑائی کرے“۔یہ بات سارے لوگ مان گئے اور ہر قبیلہ سے ایک ایک آدمی چن لیا گیا اور فیصلہ ہوا کہ اسی رات اس تجویز پر عمل کیا جائے۔اُدھر تو یہ مشورے ہو رہے تھے۔ادھر میرے رب نے اپنے رسول کو ان کی سازش کی اطلاع دے دی اور حکم دیا کہ رسول اللہ بھی میرب چلے جائیں۔دوپہر کا وقت تھا آپ اسی وقت حضرت ابوبکر کے پاس گئے اور ان سے کہا مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔حضرت ابو بکر رسول اللہ سے بہت محبت کرتے تھے۔آپ نے بے اختیار کہا۔یا رسول اللہ ! کیا میں بھی آپ کے ساتھ جا سکتا ہوں؟ رسول اللہ نے جواب دیا ہاں! آپ اتنے خوش ہوئے کہ خوشی کے مارے آپ کے آنسو نکل آئے۔حضرت عائشہ جو حضرت ابو بکر کی بیٹی ہیں اس وقت وہیں تھیں۔وہ کہتی ہیں مجھے اس دن پہلی دفعہ پتہ لگا کہ بہت خوشی میں انسان کے آنسو بھی آ جاتے ہیں۔پھر حضرت ابوبکر نے کہا یا رسول اللہ! میں نے اس سفر کے لئے پہلے ہی دو اونٹنیاں پالی ہوئی ہیں۔ان میں سے ایک آپ لے لیں۔حضور نے کہا۔ٹھیک ہے مگر قیمت ادا کر کے لونگا۔حضرت ابو بکر کے گھر والوں نے جلدی جلدی سامان تیار کیا۔کھانے کی تھیلی باندھنے کے لئے جلدی میں اور کوئی کپڑا نہ ملا تو حضرت ابو بکر کی بڑی بیٹی حضرت اسماء نے اپنی چادر کو ہی پھاڑ کر اس سے کھانا باندھ دیا اور دوسرے حصہ سے پانی کا مشکیزہ باندھ دیا۔اس لئے ہم انہیں ذات النطاقین یعنی دو چادروں والی کہتے ہیں۔