سیدنا بلالؓ — Page 17
سیدنا بلال 29 غم کا سال بیوقوفی کی بات سن کر آپ مسکرائے اور ان کو بتایا کہ یہ کیسے ممکن ہے میں تو تمہارے بتوں کو سمجھتا ہی بے جان ہوں۔یہ بالکل بے کار چیزیں ہیں۔ان کے آگے سر جھکانا تو خدا کو ناراض کرنا ہے۔تمہارے خیال میں میں وہ بات کر سکتا ہوں جس سے خدا نے مجھے منع کیا ہے؟ دوسری طرف تم بتوں کو پوجتے ہو تم ایک خدا کی عبادت کس طرح کرو گے۔یہ سن کر وہ واپس چلے گئے۔شعب ابی طالب میں محصوری اب انہوں نے سوچا کہ ہم تو محمد کے مقابلہ میں ہر دفعہ نا کام ہو جاتے ہیں۔پہلے ابوطالب کو ساتھ ملانے میں ناکام ہوئے۔پھر با وجود ساری کوششوں کے مسلمانوں میں سے کسی ایک کو بھی واپس اپنے مذہب میں نہیں لا سکے۔حمزہ اور عمر بھی محمد کے ساتھ مل گئے ہیں۔جس کی وجہ سے محمد گا اگر وہ طاقتور ہوتا جاتا ہے۔نجاشی نے بھی ہماری بات ماننے سے انکار کر دیا ہے اور محمد نے بھی ہماری بات نہیں مانی۔اب کیا کیا جائے؟ مشورہ کرنے کے لئے قریش کے سارے قبیلوں کے سردارا کٹھے ہوئے اور یہ فیصلہ ہوا کہ سارے مسلمانوں کا اور ان لوگوں کا جو مسلمانوں کا ساتھ دے رہے ہیں بائیکاٹ کر دیں۔اور ان کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات نہ رکھیں۔ان کے ساتھ کوئی رشتہ نہ کریں نہ ان سے کوئی چیزیں خریدیں نہ ان کے ہاتھ بیچیں۔یہ فیصلہ لکھ کر سارے سرداروں نے اس پر دستخط کئے اور عہد نامہ خانہ کعبہ میں لٹکا دیا۔اس کے نتیجہ میں سارے مسلمان اور بنو ہاشم کے وہ لوگ جو مسلمانوں کے ساتھ تھے مکہ کے قریب ایک گھاٹی میں جو ابوطالب کی ملکیت تھی چلے گئے۔اسے شعب ابی طالب کہتے ہیں۔میں بھی باقی مسلمانوں کے ساتھ تھا۔ہم لوگ وہاں تقریباً تین سال رہے۔حال یہ تھا کہ باہر سے نہ کوئی ہمیں ملنے آ سکتا تھا نہ ہی ہم کہیں باہر جاسکتے تھے چھپ چھپا کر کبھی باہر نکلتے اور کھانے پینے کی چیزیں لے آتے۔کئی کئی دن کچھ کھائے پیے بغیر گزر جاتے۔ہمارے کپڑے پھٹ چکے تھے۔بھوک اور پیاس کے مارے ہم سخت کمزور ہو چکے 30 سیدنا بلال اسلام کا نور پھیلنے لگا تھے۔حالت یہاں تک ہوگئی تھی کہ بعد میں ہمارے ایک مسلمان بھائی نے بتایا کہ جب ایک دفعہ کئی دن سے میں نے کچھ نہیں کھایا ہو ا تھا۔رات کا وقت تھا۔بھوک کے مارے بری حالت تھی۔اسی بے چینی میں گرتا پڑتا ادھر ادھر پھر رہا تھا کہ مجھے لگا کہ میرے پاؤں کے نیچے کوئی نرم چیز آئی ہے۔اندھیرے میں میں نے ہاتھ بڑھایا اور وہ چیز اٹھا کر منہ میں ڈال لی۔مجھے آج تک یہ نہیں پتہ کہ وہ کیا چیز تھی جو میں نے اس دن کھائی تھی۔اڑھائی تین سال کے اس سارے عرصہ میں ہم میں سے کسی کو ایک دفعہ بھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں ملا تھا مگر اتنی بات بتادوں کہ ان ساری تکلیفوں کے باوجود ہم میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا، جس کو کبھی خیال بھی آیا ہو کہ اپنے رب سے منہ موڑ لے۔ہم مایوس بھی نہ تھے اس وقت بھی ہمیں یقین تھا کہ ہمارا خدا ہماری مدد کریگا۔جیتیں گے ہم ہی۔تقریباً تین سال گزرنے کے بعد ایک دن رسول اللہ نے ابو طالب کو کہا۔" چا! مجھے خدا نے بتایا ہے کہ وہ عہد نامہ جس کے تحت قریش نے ہمارا بائیکاٹ کر رکھا ہے، اُسے کیڑوں نے کھا لیا ہے۔صرف جہاں خدا کا نام لکھا ہوا ہے وہ حصہ رہ گیا ہے۔ابو طالب اُٹھے اور دیکھنے کے لئے کہ رسول اللہ کی بات درست ہے یا نہیں خانہ کعبہ گئے۔وہاں جا کر دیکھا تو رسول اللہ کی بات ٹھیک تھی۔وہاں قریش کے کچھ سردار بھی بیٹھے ہوئے تھے۔آپ نے انہیں کہا کہ محمد کہتا ہے کہ جس معاہدہ کی وجہ سے تم نے ہمیں قید کیا ہوا ہے۔اس کو کیٹروں نے کھالیا۔جب انہوں نے معاہدہ دیکھا تو وہ حیران رہ گئے کہ سارا عہد نامہ کیڑے کھا چکے تھے۔صرف شروع میں اللہ کا نام بچ گیا تھا۔اس پر قریش کے بعض سردار جو کچھ رحمدل تھے۔انہیں خیال آیا اور انہوں نے کہا کہ یہ بڑے ظلم کی بات ہے کہ تین سال ہو گئے ہم لوگ آرام سے گھروں میں ہیں جبکہ ہمارے یہ بھائی مصیبت کے دن گزار رہے ہیں۔اب یہ قصہ ختم ہونا چاہیے اور معاہدہ