سیدنا بلالؓ — Page 18
سیدنا بلال 31 اسلام کا نور پھیلنے لگا اسلام کا نور پھیلنے لگا 32 سیدنا بلال منسوخ کر دینا چاہیے۔ابو جہل اور اس کے کچھ ساتھی اس بات پر تیار نہ تھے وہ چاہتے تھے کہ معاہدہ قائم رہے۔ابھی یہ بحث ہی ہو رہی تھی کہ ایک سردار مطعم بن عدی نے وہ کاغذ اٹھا کر پھاڑ دیا اور کچھ اور لوگوں کو ساتھ لے کر شعب ابی طالب آئے اور ہمیں اپنی حفاظت میں لے جا کر اپنے اپنے گھروں میں چھوڑا۔اس طرح یہ مصیبت کے دن ختم ہوئے۔یہ نبوت کے دسویں سال کی بات ہے۔غم کا سال اس کے کچھ عرصہ بعد ابو طالب جن کی عمر۸۰ سال سے زائد ہو چکی تھی اور خدیجہ جن کی عمر ۶۵ برس کی تھی۔کچھ وقفے سے وفات پاگئے۔تین سال کی تکلیفوں اور قید نے ابو طالب اور خدیجہ کی صحت بہت خراب کر دی تھی۔یہ دونوں رسول اللہ کے لئے بڑا سہارا تھے۔ابوطالب مسلمان نہیں ہوئے تھے مگر رسول اللہ کی مدد کرنے میں انہوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ خدا انہیں اس مدد کا ضرور اچھا بدلہ دے گا۔خدیجہ بھی ہمارے لئے بہت سہارا تھیں۔ہماری تو ماں بھی وہی تھیں۔رسول اللہ پر سب سے پہلے ایمان لائی تھیں۔شادی سے پہلے بڑی آرام کی زندگی گزاری تھی۔لیکن بعد میں جب رسول اللہ نے دعوی کیا تو ہر قسم کے دُکھ اُٹھانے پڑے مگر آپ نے کبھی شکوہ نہیں کیا۔رسول اللہ کو آپ سے بڑی محبت تھی۔آپ کی وفات پر ہمیں بہت صدمہ ہوا۔ان دونوں کی وفات کی وجہ سے ہم اس سال کو عام الحزن یعنی غم کا سال کہتے ہیں۔طائف کا واقعہ اب ہمیں اگر چہ شعب ابی طالب کی قید سے تو رہائی مل چکی تھی لیکن قریش کی طرف سے مخالفت اسی طرح جاری تھی اور لوگ ہماری بات تک سنے کو تیار نہ ہوتے تھے۔اس لئے رسول اللہ نے ارادہ کیا کہ ملکہ سے باہر جا کر اسلام کا پیغام سنایا جائے۔مکہ کے جنوب میں ۴۰ میل کے فاصلہ پر ایک پہاڑی شہر ہے جس کا نام طائف ہے۔ان دنوں وہاں بنو ثقیف کا قبیلہ رہتا تھا۔یہ بڑے امیر لوگ تھے۔انہوں نے پہاڑوں پر باغات لگائے ہوئے تھے جس میں پھل وغیرہ بہت ہوتا تھا۔آپ زید کو لے کر پیدل ہی طائف کی طرف روانہ ہوئے۔مگر طائف کے لوگوں نے بھی آپ کی باتیں نہ سنیں۔آپ دس دن تک وہاں رہے مگر طائف کے لوگوں نے اسلام قبول کرنے کی بجائے آپ کی ہنسی اڑائی۔شہر کے غنڈوں اور آوارہ لڑکوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا۔جنہوں نے پتھر مار مار کر آپ کو اور زید کو زخمی کر دیا اور آپ واپس مکہ آگئے۔اسلام کا نور پھیلنے لگا نبوت کا گیارہواں سال شروع ہو چکا تھا۔ہماری مخالفت میں کوئی کمی نہ ہوئی تھی۔مکہ والے ہمیں ہر طرح کی تکلیفیں پہنچاتے تنگ کرتے اور کسی کو ہماری بات نہ سننے دیتے تھے۔لیکن اس کے باوجود جو کوئی اسلام کی پیاری باتیں سنتا وہ مسلمان ہو جاتا۔اس لئے آہستہ آہستہ مسلمانوں کی تعداد بڑھ رہی تھی۔رسول اللہ کی اور ہماری کوشش یہی ہوتی کہ جب بھی موقعہ ملتا ہم اسلام کا پیغام دوسروں تک پہنچاتے رہتے۔عام دنوں میں قریش کے ڈر کی وجہ سے ہم لوگوں سے زیادہ مل جل نہیں سکتے تھے۔حج کے دنوں میں سارے عرب کے لوگ مکہ آتے تھے ان دنوں مکہ والے بھی لڑنے جھگڑنے سے باز رہتے تھے۔اس لئے یہ بڑا اچھا موقعہ ہوتا۔ہم باہر سے آنے