سیدنا بلالؓ

by Other Authors

Page 16 of 29

سیدنا بلالؓ — Page 16

سیدنا بلال 27 شعب ابی طالب میں محصوری شعب ابی طالب میں محصوری 28 سیدنا بلال گیا اور طبیعت میں سکون آچکا تھا۔فاطمہ نے وہ کاغذان کو دیا۔عمر نے پڑھنا شروع کیا وہ سورۃ طہ کی یہ آیتیں تھیں۔إِنَّنِي أَنَا اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي وَأَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِى إِنَّ السَّاعَةَ اتِيَةٌ أَكَادُ أُخْفِيْهَا لِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَى میں یقیناً اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں۔پس تو میری ہی عبادت کر۔میرے ذکر کیلئے نماز قائم کر۔قیامت یقیناً آنیوالی ہے قریب ہے کہ میں اسے ظاہر کر دوں تا کہ ہر نفس کو اپنے اعمال کے مطابق جزا دی جائے۔خدا کے کلام سے عمر پر عجیب اثر ہوا۔ایک دفعہ تعصب کی دیوار گر جانے کے بعد خدا کے کلام کی خوبصورتی اور عظمت نے آپ کا دل کھول دیا۔بے اختیار ہو کر کہہ اٹھے میں گواہی دیتا ہوں اللہ ایک ہے۔میں گواہی دیتا ہوں محمد اس کے رسول ہیں۔خباب جوعمر کو غصہ میں دیکھ کر چھپے ہوئے تھے۔یہ ن کر الحمدللہ الحمد للہ کہتے ہوئے باہر آئے اور کہنے لگے۔ابھی کل کی بات ہے کہ میں نے رسول اللہ کو دعا کرتے سنا تھا۔اے اللہ! عمر بن خطاب اور عمرو بن ہشام (ابو جہل) میں سے ایک اسلام کو عطا کر دے۔عمر پوچھنے لگے میں رسول اللہ کو کہاں مل سکتا ہوں؟ آپ کو بتایا گیا کہ رسول اللہ ارقم کے گھر میں ہوں گے۔اسی طرح تلوار ہاتھ میں پکڑے عمر ارقم کے گھر کی طرف چل پڑے اور وہاں دروازہ کھٹکھٹایا۔ہم میں سے ایک نے جھانک کر دیکھا اور کہا اوہ! یہ تو عمر ہیں ان کے ہاتھ میں تنگی تلوار ہے! حمزہ کہنے لگے؟ آنے دو۔اگر عمر کی نیت خراب ہے تو اس کی تلوار ہی سے اس کی گردن اڑا دوں گا۔رسول اللہ کے حکم پر دروازہ کھول دیا گیا۔عمر اندر آئے۔رسول اللہ نے آپ کے کرتے کو پکڑ کر کھینچا اور کہا۔عمر کس ارادے سے آئے ہو؟ مخالفت سے باز آ جاؤ اگر باز نہیں آؤ گے تو خدا کے زور آور ہاتھ کا انتظار کرو۔عمر آگے بڑھے بڑی عاجزی سے بولے۔میں گواہی دیتا ہوں۔خدا ایک ہے۔میں گواہی دیتا ہوں آپ اس کے رسول ہیں۔ہم مسلمان جو وہاں موجود تھے۔رسول اللہ کی دُعا کے اتنا جلد پورا ہونے پر خوشی سے بے حال ہو گئے اور ہم نے مل کر اللہ اکبر کے نعرے اتنے جوش سے لگائے کہ دا یار تم جو صفا کی پہاڑیوں کے قریب تھا گونج اٹھا۔عمر نے عرض کی یا رسول اللہ! کیا ہم سچائی پر نہیں ہیں؟ کیوں نہیں۔رسول اللہ نے فرمایا۔یقینا ہم سچائی پر ہیں۔عمر نے عرض کی۔پھر چھپ کر کیوں عبادت کریں۔کھل کر نماز کیوں نہ پڑھیں۔اس وقت ہم چالیس مسلمان تھے۔عمر اور حمزہ کی قیادت میں ہم خانہ کعبہ گئے اور کفار کی نظروں کے سامنے پہلی بار ہم نے نماز پڑھی۔میں پہلے بتا چکا ہوں کہ قریش مسلمانوں کو بہت دکھ اور تکلیف پہنچاتے تھے تا کہ وہ اسلام چھوڑ دیں لیکن جو بھی ایک دفعہ مسلمان ہو جاتا پھر واپس نہیں پھرتا تھا۔اب مکہ کے دو بڑے سرداروں کے مسلمان ہو جانے سے ان کو فکر ہوئی اور انہوں نے سوچا رسول اللہ کے ساتھ کوئی ایسی بات کریں جس کے نتیجے میں وہ اپنے دین کے پھیلانے سے رک جائیں۔چنانچہ قریش کے سردار ولید بن مغیرہ، عاص بن وائل اور میرا پہلا آقا امیہ بن خلف، رسول اللہ کے پاس آئے اور کہنے لگے۔محمد ہمارا آپس کا اختلاف بڑھتا جاتا ہے۔قوم میں پھوٹ پڑ گئی ہے۔اسے ختم کرنا چاہئے۔آؤ کوئی ایسی تدبیر کریں کہ جس سے یہ جھگڑے ختم ہو جائیں۔آپ نے کہا تم بتاؤ تم نے کیا سوچا ہے۔کہنے لگے کہ یوں کرو کہ ہم اور تم دونوں مل کر عبادت کریں۔جب تم اپنے خدا کی عبادت کرو تو ہم بھی تمہارے ساتھ شامل ہو جائیں گے اور جب ہم اپنے بتوں کو پوجیں تو تم بھی شریک ہو جانا۔اس طرح ہم میں سے جو بھی سچا ہو اس کا فائدہ دوسرے کو پہنچ جائے گا۔ایسی