سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 86
86 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ محمد ناصر صاحب کو اعتقاد کرتے تھے۔تیسرے : اور ان کا یہی اعتقاد تھا کہ جو لوگ وقت کے مجدد کو نہیں مانتے وہ ناجی نہیں ہیں جیسے کہ حدیث شریف میں آیا ہے۔من لم يعرف امام زمانه فقد مات ميتة الجاهلية۔چوتھے : اُن کا یہ مذہب تھا کہ حضرت مسیح موعود ایک نیر اعظم ہیں جن کی آمد پر سب فرقوں کی روشنی گم ہو جائے گی اور یہ نسبت محمد یہ الخاصہ بھی ختم ہو جائے گی۔یہ وہ اعتقادات ہیں جو بالکل سلسلہ احمدیہ کے ساتھ ملتے جلتے ہیں۔آج ہم بھی اس امر کو مانتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے اُمت محمدیہ میں فیض کے بڑے بڑے دروازے کھلے ہیں اور ولایت ہی کا نہیں بلکہ نبوت کا مقام بھی آپ کی برکت اور فیض سے حاصل ہوسکتا ہے۔جب حضرت خواجہ میر درد کو تمام انبیاء کا مقام ولایت حاصل تھا جو آسمان مجددیت پر ایک ستارہ تھا۔اس نیر اعظم کو جسے وہ خود نیر اعظم کہتے ہیں جس میں سب ستاروں کی روشنی گم ہونے والی تھی کیا کہا جائے گا ؟ کیا اس کے لئے نبوت کے سوا اور کوئی مقام باقی رہ جاتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود ہی اس مسئلہ کو حل فرما دیا۔غیر کیا جانے کہ دلبر سے ہمیں کیا جوڑ ہے وہ ہمارا ہو گیا اس کے ہوئے ہم جاں نثار میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار اک شجر ہوں جس کو داؤدی صفت کے پھل لگے میں ہوا داؤد اور جالوت ہے میرا شکار پر مسیحا بن کے میں بھی دیکھتا روئے صلیب گر نہ ہوتا نہ ہوتا نام احمد جس پہ میرا سب مدار سر سے میرے پاؤں تک و وہ یار مجھ میں ہے نہاں اے مرے بدخواہ کرنا ہوش کر کے مجھ پہ وار ۲۰ اس مسئلہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بہت بڑی روشنی اپنی کتب میں ڈالی ہے۔مگر