سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 85 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 85

85 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ فرقہ اور گروہ گروہ جدا گانہ قائم ہو جاتے ہیں اور ملتِ واحدہ میں اگر چہ باعتبار نوعیت کے ایک ہوتے ہیں مگر صور استعدادی کے اختلاف کی وجہ سے آدمیوں اور رنگوں کی طرح اسے رنگا رنگ کر ڈالتے ہیں اور اصلی دین کو قیود اضافی میں مقید کر کے وحدت پر قائم نہیں رکھتے اور امتزاجات نفسانی کے ساتھ اسے ممتزج کر کے اسے متفرق کر دیتے ہیں اور وہ ایک ملت جس پر ربانی ملت کے عہد میں سب متفق باقی نہیں رہتے۔اس لئے ضرور ہے، کہ ہر زمانہ میں خدا کی طرف سے ایک فردا کمل آتا رہتا ہے تا کہ ملت حقیقی کی نوعیت اور اصلیت کوسنوارتا رہے۔اس لئے اُمتِ محمدیہ میں ایک ولی کامل کا وقت مقررہ پر آنا جو دینِ متین کو از سر نو زندہ کر دیتا ہے اور اس کی تجدید ہو جاتی تھی۔یہاں تک کہ خدا تعالیٰ نے حضرت امیر الحمد تین خواجہ محمد ناصر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بارہویں صدی کے آغاز میں اس خدمت کے لئے مامور فرمایا اور آپ نے اس دین مبین کے آفتاب کو نصف النہار میں پہنچا دیا اور محمد یہ خالصہ کے انوار سے جہان کو منور کر دیا۔یہی فرقہ ناجیہ ہے۔اسی اصل نسبت سے تعلق رکھتا ہے جو جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں جاری تھا اور زمانہ اسے فراموش کر چکا تھا اور میں کہ اول المحمد تین ہوں اسی نسبت خاصہ خالصہ کا دروازہ ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔فاقوم لا تكونوا كالذى فرّقوا دين الله الذى له الدين الخالص وماثلثة و سبعين فرقة واختلفوا بالاختلاف المنكرة المبتدعة - اور یہ نسبت محمد یہ الخاصہ حضرت امام موعود علیہ السلام کی ذات پاک پر ختم ہوگی اور تمام جہان ایک نور سے روشن ہوگا اور اس نیر اعظم کے انوار میں سب فرقوں کے ستاروں کی روشنی گم ہو جائے گی۔19 اس بیان کو پڑھ جانے سے یہ بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ آپ کو سب انبیاء کا مقام ولایت دیا گیا اور بالآ خر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ولایت بھی دیا گیا اور آپ کو رسول کریم کی ذات سے ایک ایسی نسبت تھی کہ آپ پر رد محمدی ڈال دی گئی اور آپ وجود محمدی میں فنا ہو گئے۔دوسرے : آپ اس حدیث کے ماتحت یـاتـی عـلـى كـل رأس مائة سنة من يجددنا دینھا۔ہر صدی کے سر پر ایک مجدد کی آمد کو تسلیم کرتے تھے۔بلکہ بارہویں صدی کے مجد دحضرت خواجہ