سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 87
87 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ افسوس ! کہ کاغذ کی نایابی اور حصول اشیاء کی دقت مجھے مجبور کرتی ہے کہ میں اس موضوع پر زیادہ نہ لکھوں۔الغرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سارے انبیاء کا مقام نبوت عطا کیا گیا اور خدا تعالیٰ نے اپنی وحی میں آپ کو جری اللہ فی حلل الانبیاء کا خطاب دیا اور اپنی وحی میں آپ کو شمس و قمر بھی فرمایا جو حضرت خواجہ میر در درضی اللہ عنہ کو نیر اعظم دکھایا گیا۔حضرت خواجہ میر در دفنافی الرسول کے مقام پر اپنے آپ کو بیان کرتے ہیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فنافی الرسول اور فنافی اللہ کے دونوں مقاموں پر فائز تھے۔آپ اپنی محبت رسول کا ذکر اپنی کتابوں میں صد ہا جگہ فرما چکے ہیں۔مگر مختصر طور پر آپ فرماتے ہیں: بعد از خدا بعشق محمد محترم گر کفر این بود بخدا سخت کافرم نقش ہستی تیری الفت سے مٹایا ہم نے اپنا ہر ذرہ تری راہ میں اُڑایا ہم نے دلبرا مجھ کو قسم ہے تیری یکتائی کی آپ کو تیری محبت میں بھلایا ہم نے بخدا دل سے مرے مٹ گئے سب غیروں کے نقش جب سے دل میں یہ تیرا نقش جمایا ہم نے دیکھ کر تجھ کو عجب نور کا جلوہ دیکھا نور سے تیرے شیاطیں کو جلایا ہم نے اس طرح بہت سا کلام آپ کے عربی، فارسی ، اُردو اشعار میں اور اس کے علاوہ عربی، اُردو، فارسی نثر میں موجود ہے۔جس سے اس عشق و محبت کا پتہ چلتا ہے۔جو آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم