سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 84
84 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ آپ اپنے زمانے کے ولی کامل تھے آپ نے مقام ولایت کے متعلق خود لکھا ہے کہ : برکت جامعیت محمدیہ کی تمام نسبتیں فقر کی خدا تعالیٰ نے میری ذات میں جمع فرمائی ہیں اور مجھے حق و باطل میں فقر میں فارق بنایا ہے اور مجھے نجابت طرفین اور سیادت والدین کی طرف سے مشرف فرمایا تا کہ میں محمد یہ خالص کے طریقہ کو رواج دوں اور مجھے جہان کیلئے صفی اور خلیفہ تجویز فرمایا اور آدم علیہ السلام کا مقام ولایت عطا کیا اور مکا یک نفس و شیطان سے نجات دی۔پھر فرمایا: مجھے حضرت داؤدعلیہ السلام کی ولایت کا مقام بخشا۔حضرت سلیمان علیہ السلام کا مقام ولایت مجھے دیا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مقام ولایت مجھے دیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا مقام ولایت مرحمت فرمایا۔پھر حضرت یوسف علیہ السلام کا بھی مقام ولایت عطا فرمایا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مقام ولایت بھی عنایت کیا اور پھر اس جامعیت کا کمال اور اختتام کے لئے ولایت ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرف فرمایا اور محمدیت خالص کی ردا میں مجھے چھپا لیا اور رسول پاک کی ذات میں مجھے فنا کر دیا۔پس نہ میں رہا اور نہ میرا نام و نشان۔پھر فرمایا: مجھے خدا تعالیٰ نے عقل کامل ونفس کامل اور روح کامل اور جسد کامل کے ساتھ مظہر اپنے تمام اسماء کا پیدا کیا تا کہ میں مومنین کو طریقہ خالصہ محمدیہ کی دعوت دوں“۔پھر فرمایا: ہر فرد انسان بقدر عقل و فہم و استعداد شخصی کے علوم کلیہ اضافیہ کو اخذ کرتا ہے اور طاقت بشریہ کے موافق ہر امر کا ادراک کرتا ہے اور ہر شخص واحد کو معانی اور مراد میں بہت سے اختلاف مثل اُن کی اشکال مختلفه با یک دگر کے لاحق ہوتے ہیں اور اس حیثیت سے فرقہ