سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 83
83 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ محمد شاہ بادشاہ اُس وقت دہلی کے تخت پر محمد شاہ بیٹھا ہوا تھا جب اُس نے حضرت میر درد کی شہرت سنی تو اُس نے چاہا کہ آپ قلعہ میں تشریف لائیں۔مگر اُسے معلوم ہو گیا کہ آپ بادشاہوں کی مجلس اور صحبت سے بہت دور رہتے ہیں۔اس لئے ایک دن بغیر اطلاع دیئے ہوئے ہاتھی پر سوار ہو کر خواجہ صاحب کی بارہ دری میں تشریف لے آیا۔مگر آپ نے بادشاہ سے کسی قسم کا تعلق نہیں کیا۔بادشاہ آپ کی زیارت سے بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ کوئی خدمت میرے لائق ہو تو اس سے سرفراز فرمایا جائے۔حضرت خواجہ میر درد نے ارشادشاہی سن کر فرمایا: آپ کے لائق یہی خدمت ہے کہ اب کبھی فقیر خانہ پر تشریف نہ لائیے گا کیونکہ آپ کے آنے سے فقیر کا نفس موٹا ہوتا ہے“۔محمد شاہ اُٹھ کر خاموشی سے چلے گئے اور بارہ دری سے نکل کر کہا بیشک یہ آلِ رسول ہیں حضرت خواجہ میر درد کا یہ استغناء قابل رشک ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے مقام کا اظہار فرماتے ہوئے لکھتے ہیں۔کند آن کس که بتو رسد شہاں راچہ حضرت خواجہ میر درد نے اپنی عمر فاقوں میں بسر کی اور بعض اوقات کئی کئی دن تک یہ سلسلہ چلتا رہتا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ خود ہی غیب سے سامان مہیا فرما دیا کرتا۔خواجہ میر درد نے تمام عمر کسی امیر ، وزیر اور شاہزادے کے پاس جانا پسند نہ کیا۔ہاں اپنے والد خواجہ محمد ناصر کے مزار پر روزانہ بلا ناغہ جایا کرتے تھے۔حتی کہ جس دن نادر شاہ دہلی تک آیا دہلی کے چاروں طرف قتل اور لوٹ کا بازار گرم تھا۔اُس دن بھی با وجود گھر والوں کے روکنے کے آپ نادر شاہ کے سپاہیوں میں سے ہو کر گذر گئے اور اپنے معمول میں فرق نہ آنے دیا۔وہاں آپ نے یہ رباعی پڑھی: در کوئے تو اے مونس جان می آیم تا جان باقی سرت ہے گمان می آیم گرم شام کشان کشان برندم زینجا چون صبح شود باز همان می آیم